.

عراقی فوج نے موصل میں پیش قدمی دو دن کے لیے روک دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فوج اور اتحادی ممالک نے عراق کے شمالی شہر موصل میں دولت اسلامی ‘داعش‘ کے خلاف جاری فوجی آپریشن دو روز کے لیے روکنے کا اعلان کیا ہے۔ آپریشن روکنے کا مقصد اب تک داعش سے واپس لیے گئے علاقوں پر کنٹرول مضبوط بنانا اور پیش قدمی کے لیے فورسز کو تازہ دم ہونے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

امریکی فوج کے کنرل جون ڈوریان نے جمعہ کے روز بغداد میں ایک ویڈیو کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ موصل میں فورسز کی پیش قدمی کو دو روز کے لیے روکا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عراقی فوج کی طرف سے دو دن کے لیے پیش قدمی روکنے کا فیصلہ اتحادی ممالک کے مشورے سے کیا گیا ہے۔

کرنل ڈوریان کا کہنا ہے کہ دو دن کے لیے موصل میں زمینی اور فضائی دونوں طرح کے حملے روکے گئے ہیں۔ تمام محاذوں پر موجود فورسز کو دو دن کا توقف کرنے کو کہا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو دن کا وقفہ کرنے کا مقصد جنگ میں شریک فوج کو دشمن کے خلاف فیصلہ کارروائی کے لیے تیاری کا موقع فراہم کرنا ہے۔

ادھر دوسری جانب اتحادی ممالک کے جنگی طیاروں نے موصل میں بعض مقامات پر داعش کی سرنگوں پر بمباری کی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ داعش نے جنگ کے لیے زیرزمین سرنگیں کھود رکھی ہیں جہاں سے وہ لڑائی میں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ اپنے لیڈروں کو بھی پناہ دیے ہوئے ہیں۔

امریکی اتحاد کے ترجمان کا کہنا ہے کہ موصل میں آپریشن شروع ہونے کے بعد اب تک2500 راکٹ اور میزائل استعمال کیے گئے ہیں۔