.

ہماری فورسز عراق میں محاذ جنگ پر نظر رکھے ہوئے ہیں: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب کے ڈپٹی چیف جنرل حسین سلامی نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ عراق میں جاری لڑائی میں ایرانی فورسز محاذ جنگ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور حالات کو باریک بینی سے مانیٹر کر رہی ہیں۔

پاسداران انقلاب کے مقرب خبر رساں ادارے’فارس نیوز‘ کی طرف سے جاری کردہ حسین سلامی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاسیج‘ موبلائیزیشن ملیشیا عراق میں محاذ جنگ کی مکمل طور پرنگرانی کررہی ہیں۔

خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ حسین سلامی نے ان خیالات کا اظہار عراق، ایران جنگ اور شام کی جنگ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عراق ماضی کے عراق سے کافی مختلف ہے۔ اس وقت ہماری پاسیج فورس عراق میں موجود ہے جو بہ قول ان کے محاذ جنگ پرہونے والی پیش رفتوں کو مانیٹر کررہی ہے۔

پاسداران انقلاب کے ڈپٹی چیف نے عراق کے حوالے سے فرقہ وارانہ نوعیت کی اصطلاح استعمال کی اور کہا کہ اس وقت عراق میں اہل تشیع کی حکومت قائم ہے۔ اہل تشیع کی حکومت کی اطلاح ایران کے متشدد اور سپریم لیڈر کے مقرب عہدیدار اکثر استعمال کرتے دیکھے گئے ہیں۔

ایران نے عراق میں اپنی فوج کی موجودگی سے کبھی انکار نہیں کیا، تاہم تہران کا دعویٰ ہے کہ عراق میں موجود ایرانی فوج بغداد حکومت کی درخواست پر بھیجی گئی ہے۔ ایران کو عراق کی شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کا سب سے بڑا مدد گار قرار دیا جاتا ہے۔ سخت گیر اہل تشیع جنگجوؤں پرمشتمل الحشد الشعبی اس وقت موصل میں جاری آپریشن میں بھی پیش پیش ہے جہاں بڑے پیمانے پر اہل سنت مسلک کے شہریوں کے قتل عام اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے خدشات موجود ہیں۔

ایرانی عہدیدار کا دورہ بغداد

ادھرکل ہفتے کو ایرانی جوڈیشل کونسل کے چیئرمین صادق آملی لاریجانی نے عراق کا دورہ کیا جہاں انہوں نے عراقی حکومت اور اہل تشیع کے سرکردہ مذہبی رہ نماؤں سے ملاقاتیں کیں۔

تہران سے بغداد کی طرف روانگی سے قبل ہوائی اڈے پر بات کرتے ہوئے صادق لاری جانی نے کہا کہ وہ عراقی وزیراعظم حیدر العبادی، پارلیمنٹ کے اسپیکر سلیم الجبوری، نجف کے سرکردہ شیعہ علماء اور عراق کی جوڈیشل اتھارٹی کے حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔