.

ایران کے ساتھ اچھے تعلقات اور روابط ہیں : افغان طالبان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں "طالبان" تحریک کے سرکاری ترجمان ملا ذبیح اللہ کا کہنا ہے کہ "علاقائی مفاہمت کے ضمن میں طالبان کے ایران کے ساتح اچھے تعلقات اور رابطے ہیں"۔ عربی روزنامے "الشرق الاوسط" کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ طالبان علاقائی مفاہمت کا راستہ نکالنے کے لیے تمام قانونی طریقوں سے استفادے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سابق طالبان سربراہ نے ایران میں معاہدوں پر دستخط کیے

رواں سال مئی میں ہلاک ہوجانے والے سابق طالبان سربراہ ملا اختر منصور نے ایران میں دو ماہ گزارے تھے اور اپنی ہلاکت سے ایک ہفتہ قبل ہی وہاں سے کوچ کیا۔ ایران میں قیام کے دوران ملا اختر نے ایرانی ذمے داران کے ساتھ معاہدوں پر دستخط بھی کیے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان معاہدوں میں اس بات پر بھی اتفاق رائے ہوا تھا کہ ایرانی سپورٹ جاری رہنے کے بدلے طالبان تحریک کے بنیادی ڈھانچے کو "داعش" تنظیم میں ضم نہیں کیا جائے گا۔

ملا اختر منصور کو ایران سے واپس آتے ہوئے امریکی ڈرون طیارے نے پاکستان کے سرحدی علاقے میں 21 مئی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ جان کی بازی ہار گئے۔

وفود کی تہران آمد

افغان طالبان تحریک کے سیاسی بیورو کی نمائندگی کرنے والے ایک وفد نے طیب آغا کی صدارت میں 18 مئی 2015 کو تہران کا دورہ کیا۔ یہ تسرا موقع تھا جب طالبان کے کسی سرکاری وفد نے ایران کا دورہ کیا۔ فریقین کے درمیان اتحاد اس وقت اپنے عروج پر پہنچ گیا تھا جب 2013 میں تہران نے طالبان کے وفد کو سرکاری طور پر اسلام سے متعلق کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔

طالبان کو ایران کی طرف سے اسلحے کی فراہمی

رواں سال فروری میں افغان حکام نے انکشاف کیا تھا کہ اسے بامیان صوبے میں طالبان کے ایک ٹھکانے سے ایرانی ساخت کی بارودی سرنگوں کے علاوہ بڑی تعداد اور بھاری مقدار میں ہتھیاراور گولہ بارود ملے ہیں۔

افغانستان میں امریکی اور بین الاقوامی افواج کے کمانڈر جنرل جان کیمبل نے اکتوبر 2015 میں بتایا تھا کہ ایران طالبان تحریک کو مالی اور عسکری طور پر سپورٹ کر رہا ہے اور طالبان جنگجوؤں کو تربیت اور ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔

تاریخی طور پر ایران اور طالبان کے درمیان تعلقات کشیدہ رہے ہیں اور 1998 میں تہران حکومت افغانستان میں اپنے 10 سفارت کاروں کے قتل کر دیے جانے کے بعد طالبان کے خلاف جنگ شروع کرنے کے قریب پہنچ چکی تھی۔ ان سفارت کاروں کو شمالی شہر مزار شریف میں ایرانی قونصل خانے میں یرغمال بنا لیا گیا تھا۔

ایران نے 2001 میں طالبان حکومت کے سقوط کے لیے بین الاقوامی اتحاد کا ساتھ دیا تھا۔ تاہم اس کے بعد ایران اپنے موقف سے واپس پلٹا اور اس نے اپنی سرحد پر امریکی عسکری وجود پر دباؤ ڈالنے کے واسطے طالبان کی حمایت کی۔ اکتوبر 2014 میں امریکی وزارت دفاع کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے افسران کم از کم 2007 سے طالبان تحریک کو اسلحہ فراہم کر رہے ہیں۔