.

یمن : اقوام متحدہ کی مصالحت کاری کے مستقبل پر ابہام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کے منصوبے کو مسترد کر دیے جانے کے بعد اقوام متحدہ کی مصالحت کاری کے آئندہ اقدامات اور یمن میں مذاکرات کے عمل کے مستقبل پر ابہام چھا گیا ہے۔

یمنی صدر عبد ربه منصور ہادي نے ہفتے کے روز اقوام متحدہ کے نئے منصوبے کو وصول کرنے سے انکار کر دیا جو انہیں یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعيل ولد الشيخ احمد نے پیش کیا تھا۔ منصور ہادی کے مطابق یہ منصوبہ متقفہ نکات کی مخالفت کر رہا ہے جس سے تنازع کے جاری رہنے کا دروازہ کھل جائے گا۔

باغیوں کو نوازا جا رہا ہے

یمنی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ہادی نے واضح کیا کہ اگر اس نقشہ راہ کو وصول کیا گیا یا پھر قبول کر کے اس کے ساتھ ساز باز کی گئی تو سوائے جنگ کے بیج بونے کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا.. اس لیے کہ یہ منصوبہ باغیوں کو نوازے گا۔ انہوں نے باور کرایا کہ یمنی عوام ان خیالات کی جنہیں نقشہ راہ کا نام دیا گیا ہے پر زور مذمت کر چکے ہیں اس لیے کہ یہ نقشہ امن نہیں ہے۔

ادھر یمنی حکومت نے ہفتے کے روز کہا کہ "اقوام متحدہ کا ویژن یمن کے بحران کو سمجھنے سے قاصر ہے اور یہ متفقہ نکات کے ساتھ میل نہیں رکھتا"۔

اس سے قبل صدر عبد ربه منصور هادی نے ہفتے کی صبح یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعيل ولد الشيخ کا استقبال کیا۔ اس موقع پر صدر کے نائب محسن صالح اور وزیراعظم احمد عبيد بن دغر بھی موجود تھے۔

ملاقات میں ہادی نے امن کے واسطے یمنی حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے تمام اقدامات اور رعایتوں سے آگاہ کر دیا تھا تاکہ ملک میں جاری خون ریزی اور عوام کی مشکلات کا سلسلہ ختم کیا جا سکے۔

یمنی صدر کے مواقف کی حمایت

دوسری جانب یمنی کابینہ نے صدر ہادی کے آپشن کے لیے اپنی بھرپور حمایت کا اظہار کیا ہے۔ کابینہ نے اقوام متحدہ کے ایلچی کی جانب سے پیش کیے جانے والے منصوبے کو مسترد کرنے کے فیصلے کی مکمل تائید کی اس لیے کہ یہ بین الاقوامی قراردادوں پر عمل درامد کے حوالے سے غیر مسبوق نوعیت کی دست برداری ظاہر کر رہا ہے۔

یمنی خبر رساں ایجنسی "سبا" کے مطابق کابینہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کے صدر کا موقف سیاسی ، سماجی ، عوامی مواقف اور تمام سیاسی جماعتوں اور شہری تنظیموں کی جانب سے جاری بیانات کی ترجمانی کرتا ہے۔

کابینہ کے بیان میں ایک مرتبہ پھر باور کرایا گیا ہے کہ خلیجی منصوبہ اور اس پر عمل درامد کا طریقہ کار ، قومی مکالمے کی کانفرنس کے نتائج اور سلامتی کونسل کی قرار داد 2216.. ان تمام امور کی بنیاد پر متفقہ سیاسی حل ہی موجودہ بحران اور لاحاصل جنگ سے نکلنے کی حقیقی کنجی ہے۔