.

میشل عون کا لبنانی صدر بننا حزب اللہ کی کامیابی ہے: ولایتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی رہبر علی خامنہ ای کے مشیر برائے بین الاقوامی امور علی اکبر ولایتی نے میشال عون کے لبنانی صدارتی انتخاب میں کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے ' حزب اللہ کے سربراہ نصر اللہ ،مزاحمت اور ایران کے دوستوں ' کی کامیابی قرار دیا ہے۔

ایرانی سیکیورٹی اداروں کی مقرب سمجھی جانے والے خبر رساں ادارے 'تسنیم' کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے مسٹر ولایتی نے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کو میشل عون کے لبنانی صدر منتخب ہونے پر خصوصی مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے اس کامیابی کو نصر اللہ اور میشل عون کے درمیان معاہدے کا نتیجہ قرار دیا۔

علی اکبر ولایتی نے میشل عون کے لبنانی صدر منتخب ہونے پر حسن نصر اللہ کو بھی خصوصی مبارک باد پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس انتخاب سے متعلق حسن نصر اللہ مرکزی شخصیت ہیں کیونکہ آغاز سے ہی نصر اللہ انہیں صدارتی امیدوار نامزد کرنا چاہتے تھے۔

میشل عون کے لبنانی صدر منتخب ہونے کے شامی بحران پر ممکنہ اثرات سے متعلق سوال پر خامنہ ای کے مشیر کا کہنا تھا کہ میشل عون کا لبنانی صدر منتخب ہونا شامی مسئلے پر اثر انداز ہو گا کیونکہ شام میں مزاحمتی محاذ کی مسٹر عون مثبت حمایت کرتے چلے آ رہے ہیں۔ علی اکبر ولایتی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ لبنان، ایران سے شروع ہونے والے مزاحمتی سلسلے کی اہم کڑی ہے اور ان کے بقول اس میں شام، عراق، یمن اور فلسطین جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔

سپریم لیڈر کے مشیر کا کہنا تھا کہ لبنانی صدر کا ملکی امور چلانے میں اہم کردار ہے۔ ان کا بھاری اکثریت سے صدر منتخب ہونا لبنان میں اسلامی مزاحمت کی سنجیدہ حمایت کا مظہر ہے۔ مسٹر ولایتی نے اس معاملے میں لبنانی کی باقی ماندہ سیاسی اور دینی قوتوں کا ذکر کرنا مناسب نہیں جانا۔ وہ بار بار حزب اللہ کی حمایت یافتہ نامزدگی کو ہی میشل عون کی انتخابی کامیابی کا مظہر قرار دیتے رہے حالانکہ المستقبل پارٹی کے سعد حریری اور سمیر جعجع نے بھی میشل عون کی صدارتی انتخاب میں کامیابی پر اہم کردار ادا کیا۔

ایرانی پاسداران انقلاب اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے ہم خیال خبر رساں ادارے میشل عون کی کامیابی کو دہشت گرد حزب اللہ اور شام جیسے ایران نواز اتحادی ملکوں کی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔