.

روسی فوج کے نصف ٹن وزنی پیرا شوٹ بموں سے حلب پر حملے

بمباری سے بڑے پیمانے پر شہریوں کی ہلاکتوں اور تباہی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بشارالاسد کی حامی روسی فوج نے جنگ زدہ شہر حلب کے مغرب میں بڑے پیمانے پر تباہ کن بموں سے فضائی حملے شروع کیے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ روسی بمبار طیارے مغربی حلب میں سولین آبادی پر نصف ٹن وزنی پیرا شوٹ بم گرا رہے ہیں جن کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق ہفتے کو روسی بمبار طیاروں نے جنوبی حلب کے علاقوں دارالعزۃ، اورم الکبریٰ، ابین، الارتباب، رجمنٹ چھ اور رجمنٹ چالیس پر امبریلا بموں سے حملے کیے جس کےنتیجے میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں اور کم سے کم تین شہریوں کے مارے جانے اور دسیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ روسی فوج بمبار طیاروں سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ’پیرا شوٹ‘ بم گرا رہی ہے۔ یہ بم نصف ٹن وزنی ہیں جو عمودی شکل میں آبادی پر برسائے جا رہے ہیں۔ زمین پر گرتے ہی یہ بم زور دار دھماکے سے پھٹتا ہے جس سے دور دور تک تباہی پھیل جاتی ہے۔ یہ ایک بم کئی کثیرالمنزلہ عمارتوں کو منہدم کردیتا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایران کی طرح اب روس بھی اپنی باضابطہ فوج کے ساتھ اجرتی قاتلوں کو شام کی جنگ میں استعمال کر رہا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے نے شام میں جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے روسی جنگجوؤں کے اقارب سے بات کی تو پتا چلا کہ روسی فوج کے ساتھ ساتھ روس کی نجی ملیشیا بھی شام کی جنگ میں اجرتی قاتلوں کے طور پر لڑ رہی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ روسی فوج کے زمینی دستے بھی خفیہ طور پر شام کی جنگ میں شامل ہیں حالانکہ روس اس سے قبل یہ دعویٰ کرتا آیا ہے ماسکو شام میں صرف فضائی آپریشن میں حصہ لے رہا اور اس کی محدود تعداد میں ایلیٹ فورس شام میں موجود ہے۔

’رائٹرز‘ نے 12 روسی شہریوں سے بات کی جنہوں نے بتایا کہ شام کے محاذ جنگ پر لڑنے والے روسی فوجیوں کے ہمراہ نجی ملیشیا کے جنگجوبھی موجود ہیں جو روسی اور شامی فوج کی چھتری تلے جنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔