.

ایران : رفسنجانی اور وزیر انٹیلی جنس کے درمیان زبانی جنگ میں شدت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق وزیر انٹیلی جنس حیدر مصلحی کا کہنا ہے کہ سابق صدر ہاشمی رفسنجانی "اپنی اولاد کی بدعنوانی سے ایرانی رائے عامہ کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں"۔ مصلحی کا یہ بیان رفسنجانی کے اس انکشاف کے جواب میں سامنے آیا ہے جس میں سابق صدر نے کہا تھا کہ 2013 میں ان کا نام صدارتی امیدواروں کی فہرست سے حذف کرانے کے پیچھے حیدر مصلحی کا ہاتھ تھا۔

دو روز قبل رفسنجانی نے صدر احمدی نژاد کے دور کے وزیر انٹیلی جنس مصلحی پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے گزشتہ انتخابات میں شوری نگہبان کے پاس جا کر صدارتی امیدواروں کی فہرست سے رفسنجانی کا نام حذف کرنے کا مطالبہ کیا۔ رفسنجانی کے مطابق مصلحی نے شوری کے سامنے یہ حجت پیش کی کہ "رفسنجانی کی مقبولیت میں ہر گھنٹے اضافہ ہو رہا ہے اور نامزدگی کی صورت میں وہ 70% سے زیادہ ووٹ حاصل کر لیں گے"۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق اس الزام کے جواب میں حیدر مصلحی نے ہاشمی رفسنجانی کو "فتنے کی جڑ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس الزام کے ذریعے 2009 میں اپنی اولاد کی طرف سے کی جانے والی مالی بدعنوانی سے ایرانی عوام کی نظر ہٹانا چاہتے ہیں۔

ایرانی حکام 2009 میں صدارتی انتخابات میں احمدی نژاد کی کامیاب کے اعلان کے فورا بعد پھوٹ پڑنے والے احتجاج کو "فتنہ" قرار دیتے ہیں اور احتجاجی مظاہروں کے سرخیلوں مير حسين موسوی ، مہدی ، کروبی ، ہاشمی رفسنجانی اور محمد خاتمی کو "فتنے کی جڑیں" شمار کرتے ہیں۔

ایرانی ویب سائٹ "سحام نيوز" کے مطابق مہدی کروبی کی ایک قریبی شخصیت نے 2013 میں انکشاف کیا تھا کہ اس وقت ایرانی انٹیلجنس کے سربراہ حیدر مصلحی اپنے چار معاونین کے ساتھ انتخابات میں امیدواروں کی نامزدگی منظور یا مسترد کرنے کی ذمے دار شوری نگہبان کے پاس گئے جہاں انہوں نے رفسنجانی کی نامزدگی کی درخواست قبول کرنے سے خبردار کیا۔

شوری نگہبان نے عمر زیادہ ہونے کو بنیاد بنا کر ہاشمی رفسنجانی کی نامزدگی کو مسترد کر دیا جن کی عمر اس وقت 78 برس ہوچکی تھی۔

یاد رہے کہ 2013 کے صدارتی انتخابات میں 686 امیدواروں نے اپنا نام پیش کیا تھا اور شوری نگہبان نے ان میں سے صرف 8 امیدواروں کے ناموں کی منظوری دی۔ ایرانی مرشد علی خامنہ ای شوری نگہبان کے تمام ارکان کا تقرر کرتے ہیں اور اس کے سربراہ 92 سالہ احمد جنتی ہیں۔