.

ایران میں 8500 اساتذہ کا کھلا خط.. حقیقی حالات کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں مرشد اعلی علی خامنہ ای کے قریب شمار کیے جانے والے سخت گیر بلاک سے تعلق رکھنے والے 8499 یونی ورسٹی اساتذہ نے ملک میں انتظامیہ ، عدلیہ اور مقننہ تینوں کے سربراہان کو ایک کھلا خط ارسال کیا ہے۔ خط میں چھ بڑی طاقتوں کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے کے بعد ملک میں ابتر اقتصادی حالات اور نیوکلیئر تنصیبات میں نا امیدی کی صورت حال سے متعلق حقائق کا انکشاف کیا گیا ہے.. ساتھ ہی یہ باور کرایا گیا ہے کہ اس معاہدے سے ایران کو بربادی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔

اگرچہ مذکورہ اساتذہ نے ایرانی پاسداران انقلاب کی عسکری قیادت بالخصوص شام اور عراق میں جاری معرکوں میں قاسم سلیمانی کو حاصل کامیابیوں کو سراہا ، تاہم ان کے خیال میں نیوکلیئر معاہدے کے معاملے میں روحانی کے زیر قیادت ایرانی سفارت کاری نے مغرب کو بڑے فوائد سے نواز دیا جب کہ ایران کو کچھ حاصل نہ ہوا۔

فارس نیوز کی جانب سے شائع کیے جانے والے خط میں یونی ورسٹی اساتذہ نے کہا کہ "مغرب نے ہماری ترقی کا سفر روکنے کے لیے عراق ، لبنان اور شام میں ایران کے خلاف نمائندہ جنگوں کا آغاز کیا جن کا مقصد ہماری صلاحیتوں پر کنٹرول حاصل کرنا ہے"۔

اس کھلے خط میں کہا گیا ہے کہ " دشمن نے مذاکرات کو حجت بنا کر ایران میں گھسنے کی کوشش شروع کر دی ہے اور اسی کے ذریعے معاہدے پر دستخط بھی کرا لیے گئے تاہم مرشد علی خامنہ ای نے دفاعی اور میزائل صلاحیتوں سے متعلق معاہدہ 2 اور معاہدہ 3 ہونے سے منع کر دیا"۔

خط پر دستخط کرنے والے اساتذہ نے صدر حسن روحانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ "اس بات کا انتظار ہے کہ ملک کے صدر ایک بار ہی یہ بتا دیں کہ نیوکلیئر مذاکرات میں انہوں نے دشمن کو کیا فوائد پیش کیے ہیں اور وہ معشیت اور معاشی زندگی میں اس معاہدے کے بے اثر ہونے کا سبب بھی وضاحت سے بیان کر دیں۔ کیا یہ سبب معاہدے کے ڈھانچے میں کمزوری سے وابستہ ہے یا دوسری جانب سے معاہدے کی شقوں پر عمل درامد نہ ہونے سے ؟"۔

بڑی طاقتوں کے ساتھ معاہدے کے نتائج کے حوالے سے دستخط کنندگان کا کہنا ہے کہ "معاہدے نے ایران کو یورینیئم کی افزودگی سے محروم کر ڈالا۔ معیشت کے دوبارہ سرگرم ہونے تک نیوکلیئر ری ایکٹروں کی سرگرمیاں ماند پڑ گئی ہیں یا پھر ختم ہو گئی ہیں۔ اب جب کہ حکومتی اعترافات اور ماہرین کے تجزیوں میں اس معاہدے کے معشیت کے حوالے سے بے اثر ہونے کو تسلیم کر لیا گیا ہے تو صدر روحانی سے توقع ہے کہ وہ سوالات کے جوابات دیں گے۔ جناب صدر آپ نے اعلانیہ اور سرکاری طور پر کہا تھا کہ تمام پابندیوں کے اٹھائے جانے سے قبل معاہدے کی کسی شق پر بھی دستخط نہیں کریں گے۔ اب جب کہ نیوکلیئر صنعت بھی فائدے ہو چکی ہے تاہم ہم نے ایران بالخصوص بینکنک سیکٹر پر عائد پابندیاں اٹھائے جانے کے بارے میں نہیں سنا ؟ "

واضح رہے کہ 2015 میں طے پانے والے نیوکلیئر معاہدے کی تائید اور مخالفت کرنے والوں کے درمیان اختلاف شدت اختیار کر گیا ہے۔ معاہدے کے حامیوں میں اکثریت اصلاح پسندوں اور اعتدال پسندوں کی ہے جب کہ مخالفین کے کیمپ میں زیادہ تر خامنہ ای کے قریب شمار کیے جانے والے سخت گیر عناصر ہیں۔ خامنہ ای کی جانب سے پہلے ہی مغرب کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کی مخالفت سامنے آ چکی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ نیوکلیئر پروگرام کے بعد انسانی حقوق کے معاملے کی اور پھر ایرانی میزائل صلاحیتوں کی باری آئے گی۔

معاہدے کے مخالفین ایران میں گرتے ہوئے معیار زندگی کے کارڈ پر کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ گراوٹ تہران کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ بد انتظامی اور متواتر حکومتوں میں سرکاری اہل کاروں کی بدعنوانی کا شاخسانہ ہے۔ دوسری جانب صدر روحانی نیوکلیئر معاہدے سے حاصل ہونے والی بعض کامیابیوں کو نمایاں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن میں تیل کی پیداوار کا اشاریہ بڑھ جانا اور جدید شہری طیاروں کی خریداری شامل ہے۔