.

البغدادی نے ترکی اور سعودی عرب کو تنقید کا نشانہ کیوں بنایا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں موصل آپریشن کے آغاز کے دو ہفتے گزر جانے کے بعد جاری ہونے والے صوتی ٹیپ میں داعش تنظیم کے سربراہ ابوبکر البغدادی نے خود کو عراق کے "سنیوں" کے محافظ کے طور پر پیش کرنے پر توجہ مرکوز رکھی۔

دوسری جانب حقائق بتاتے ہیں کہ "داعش" نے اپنی خود ساختہ ریاست کے قیام کے اعلان کے بعد کبھی شیعہ عناصر کے خلاف لڑائی نہیں چھیڑی اور نہ ہی کبھی ایران میں خودکش حملوں کی دھمکی دی جب کہ "داعش" کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اترنے والوں کی اکثریت سنی تھی اور اس دوران شام اور عراق کے شہروں کو برباد بھی کیا گیا۔

"داعش" تنظیم کا شکار بننے والوں میں نمایاں ترین نام شام کے شہر دیر الزور میں الشعیطات قبیلے کے فرزندوں کا ہے۔ اس قبیلے کے تقریبا 1000 افراد کو اجتماعی طور پر موت کی نیند سلا دیا گیا اور 1800 افراد ابھی تک لاپتہ ہیں جب کہ ایک لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے جن میں بچے اور خواتین شامل ہیں۔ مزید برآں نینوی اور تکریت کے علاوہ انبار صوبے کے قبائلی علاقوں کی بھی سنیوں سے تطہیر کی گئی۔ ان قبیلوں میں نمایاں طور پر "البونمر" قبیلے کو نشانہ بنایا گیا۔

عراق کے متعدد شہروں کے اہلیان "داعش" تنظیم کے ہاتھوں یا پھر بغداد حکومت اور امریکیوں کی جانب سے شہر کو داعش سے آزاد کرانے کے لیے دھاوے کے بعد ہجرت پر مجبور ہو گئے۔

البغدادی کی صوتی ریکارڈنگ کا کلپ سنیے

دوسری جانب عراق میں شیعہ مرجع علی السیستانی کے فتوے کی ذریعے مسلح ملیشیاؤں کے مجموعے " شیعہ پاپولر موبیلائزیشن" کی تشکیل کا اعلان عمل میں آیا۔ اس مجموعے کو ایران کی جانب سے مالی رقوم ، اسلحہ اور عسکری تجربہ فراہم کیا گیا۔ یہ بھی عراق کے صوبوں میں وسیع رقبے پر داعش تنظیم کے قبضے کا نتیجہ ہے۔

"البغدادی" نے اپنے صوتی خطبے میں مشرق وسطی کی دو اہم ریاستوں پر کڑی تنقید کی جو خطے میں عرب اور سنیوں کے خلاف بین الاقوامی گٹھ جوڑ کے مقابل ایرانی طمع اور ہوس کی راہ میں رکاوٹ بن کر کھڑی ہیں۔ یہ دو ریاستیں سعودی عرب اور ترکی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ تنقید اور نکتہ چینی "داعش" کے نام نہاد خلیفہ کے ان دعوؤں کے یکسر متضاد ہے جن میں وہ عراق اور شام میں سنیوں کے تحفظ کے واسطے عالمی جنگ میں بھی کود پڑنے کا اعلان کرتا ہے۔

داعش کے سربراہ نے اپنے جنگجوؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ " اے موحدو ! ترکی تم لوگوں کے دائرہ کار اور جہاد کے منصوبے میں مداخلت کر چکا ہے لہذا اس کے خلاف لڑائی کے لے کمر کس لو اور اس کے امن و سکون کو تہہ و بالا کر ڈالو۔ اس کے مقابل البغدادی نے سعودی عرب کو بھی دھمکی دی اور نام نہاد "خلافت کے شرکاء" سے مطالبہ کیا کہ وہ خودکش حملے کریں اور سعودی علماء ، ذمے داران اور میڈیا سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو ہلاک کریں۔

عراق اور شام میں داعش کے مضبوط ترین دو گڑھ "موصل" اور"رقہ" میں تنظیم کے محصور ہونے پر البغدادی نے آخری کارڈ استعمال کرتے ہوئے "اپنی نام نہاد خلافت کو" سنیوں کے سامنے واحد راستہ قرار دیا۔ بالخصوص فرقہ وارانہ ملیشیاؤں کی جانب سے پامالیوں میں اضافے کے بعد جب کہ ان ملیشیاؤں کی تاسیس کی اصل وجہ بھی خود داعش تنظیم ہے۔