.

"غضبِ فرات".. رقہ کے معرکے کے بارے میں اہم ترین معلومات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں کرد اور عرب جنگجوؤں پر مشتمل سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے رقہ شہر کو داعش تنظیم سے آزاد کرانے کے لیے عسکری آپریشن شروع کر دیا ہے۔ امریکی حمایت یافتہ فورسز نے آپریشن کو "غضبِ فرات" کا نام دیا ہے۔

معرکے میں ترکی کا کوئی وجود نہیں : کرد فورسز

مذکورہ فورسز نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ شام میں داعش کے گڑھ رقہ شہر پر حملے میں ترکی کا کوئی کردار نہیں ہے۔
امریکا کی طرف سے ترکی کو اطمینان دلانے کی کوشش

ادھر امریکا کی طرف سے پُرسکون رہنے کے پیغامات کے ذریعے ترکی کو "اطمینان" دلایا جا رہا ہے اور واشنگٹن نے معرکے میں ترکی کی شرکت کا عندیہ دیا ہے۔ تاہم ساتھ ہی اس جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ ہوسکتا ہے ترکی کا کردار عسکری نوعیت کا نہ ہو۔

انقرہ میں ترکی اور امریکی افواج کے سربراہان کی ملاقات میں عراق اور شام بالخصوص شام کے دو شہروں باب اور رقہ میں آئندہ دنوں کے دوران داعش کے خلاف اقدامات زیر بحث آئے۔

دوسری جانب امریکی وزارت دفاع نے شام کے شہر رقہ کو داعش سے آزاد کرانے کے لیے شروع کیے جانے والے آپریشن کا خیر مقدم کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ یہ معرکہ آسان نہ ہوگا۔

امریکی ذمے داران نے باور کرایا ہے کہ یہ معاملہ ابھی تک زیر بحث ہے کہ شہر کو داعش سے آزاد کرانے کے بعد میدانی طور پر ذمے داری کون سنبھالے گا۔ ذمے داران کے مطابق شہر پر حملے کی ذمے داری بنیادی طور پر عرب افواج کی ہے کیوں کہ یہ عربوں کا شہر ہے۔

بین الاقوامی اتحاد کا جواب..

داعش کے خلاف برسرپیکار امریکی زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کے ترجمان کے مطابق اتحاد چاہتا ہے کہ شہر کو آزاد کرانے والی فورس عرب ہو۔ ترجمان نے کہا کہ " اسی واسطے ہم نے ان جنگجوؤں کی بڑی تعداد کو تربیت دی اور مزید افراد کو تربیت دینے کا سلسلہ جاری رہے گا"۔

خیر مقدم اور اندیشوں پر مبنی رد عمل

رقہ شہر کو آزاد کرانے کا آپریشن شروع ہونے کے بعد عالمی برادری کی جانب سے حمایت سامنے آئی ہے۔ بالخصوص فرانس کی جانب سے جس نے عراق میں موصل آپریشن کے ساتھ ہی شام میں داعش کا گڑھ شمار کیے جانے والے رقہ شہر میں بھی آپریشن پر زور دیا تھا۔

تاہم معرکے کو حاصل حمایت نے ان اندیشوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے کہ اگرچہ شہر کی آبادی میں اکثریت عربوں کی ہے مگر کرد فورسز رقہ کو آزاد کرانے کے آپریشن میں انفرادی طور پر شریک ہوں گی۔

معرکہ میدانی طور پر..

عراق میں پاپولر موبیلائزیشن ملیشیاؤں کے ترجمان کے مطابق انہوں نے عراق کے شہر موصل کو شام کے شہر رقہ سے ملانے والے ہائی وے کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے.. اس کے علاوہ ملیشیاؤں نے داعش تنظیم کی جانب سے دونوں شہروں کے درمیان استعمال کیے جانے والے مرکزی سپلائی روٹ کو بھی منقطع کر دیا ہے۔

ایک امریکی ذمے دار کا کہنا ہے کہ "ہم عراق میں میں جاری آپریشن کی طرز پر رقہ میں بھی متوازی آپریشن کے ذریعے داعش پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں"۔

جہاں تک سیرین ڈیموکریٹک فورسز کا تعلق ہے تو اس نے رقہ شہر کو آزاد کرانے کے آپریشن کے آغاز کے بعد یہ باور کرایا ہے کہ مذکورہ معرکہ عراق اور شام میں امریکا کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کے ساتھ کوآرڈی نیشن سے جاری رہے گا۔

رقہ شہر.. اور داعش کے ہتھکنڈوں کے بارے میں

رقہ شہر شام کے شمالی صوبے الرقہ کا صدر مقام ہے۔ یہ دریائے فرات کے مشرقی کنارے پر حلب شہر سے 160 کلو میٹر مشرق میں واقع ہے۔ داعش نے جنوری 2014 میں الرقہ صوبے پر مکمل طور قبضہ کر لیا تھا۔

داعش تنظیم کے سخت اقدامات کے نتیجے میں شام کے دو شہروں رقہ اور بوکمال کے باسیوں کو انتہائی دشوار حالات اور گھٹن کے ماحول کا سامنا ہے۔ روزگار کے مواقع نہ ہونے کے سبب بچوں اور عورتوں کے درمیان بھوک میں اضافہ ہوگیا ہے۔ داعش کی جانب سے اپنے ارکان کے حق میں اجارہ داری قائم ہے جب کہ عام لوگوں کے لیے اشیاء خورد و نوش کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ داعش کی جانب سے دہشت گردی کی مخلتف صورتیں سامنے آتی ہیں اور لوگوں پر قوانین لاگو کر کے ان کی جبری گرفتاری ، تشدد اور ہلاکت کا سلسلہ جاری ہے۔

دوسری جانب "رقہ خاموشی سے ذبح کیا جا رہا ہے" کے نام سے مہم )جو کارکنان کا ایک نیٹ ورک ہے( روزانہ کی بنیاد پر شہر میں داعش کی جانب سے مرتکب جرائم کی تصدیق کرتی ہے۔

مہم کے مطابق تنظیم متعدد طریقوں سے انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارتی ہے۔ ان میں گلا گھونٹنا ، سولی چڑھانا ، گولیاں مارنا اور سر کاٹنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ کوڑیں لگانے ، جرمانے اور قید کی سزائیں بھی دی جاتی ہیں۔

شریعت کے نفاذ کے نام پر داعش تنظیم عورت کا بدترین استحصال کرتی ہے جس کا آغاز ظالمانہ قوانین سے ہوتا ہے اور انتہا عورت کی فروخت ، زبردستی شادی اور عصمت دری پر ہوتا ہے۔

مقامی آبادی کی جانب سے زکات اور جزیے کی ادائیگی بھی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک سے زیادہ گھر کے مالک اہلیان شہر کو اپنا اضافی گھر غیرملکی جنگجوؤں کو پیش کرنا پڑتا ہے۔