.

یمن : ملیشیاؤں کے زیر قبضہ بندرگاہوں میں کتنے ٹن امداد داخل ہوئی ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب اتحادی افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد عسیری کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیاؤں نے 186 دنوں سے زیادہ مدت سے 34 امدادی بحری جہازوں کو روک رکھا ہے جن میں خوراک اور طبی مواد موجود ہے۔ حوثی اپنے زیر قبضہ بندرگاہوں پر ان امدادات کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہے۔

عسیری کے مطابق " اس وقت الحدیدہ کی بندرگاہ پر (جو سب سے بڑی بندرگاہ شمار ہوتی ہے اور ابھی تک حوثی ملیشیاؤں کے قبضے میں ہے) انسانی اور غذائی امداد اور سامان کو وصول کرنے اور اس کی تقسیم کی نگرانی کے لیے اقوام متحدہ کا کوئی نمائندہ موجود نہیں"۔ انہوں نے مزید بتایا کہ الحدیدہ کی بندرگاہ پر 7 ماہ سے انسانی امداد کا انبار لگا ہوا ہے اور یمنی عوام اس سے فائدہ اٹھانے سے محروم ہیں۔

اس سے قبل انسانی امور کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندے اسٹیفن اوبرائن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امداد پہنچانے کے ذمے دار تجارتی جہازوں کی نگرانی کے لیے اقوام متحدہ کے معائنے کا میکانزم اچھی صورت میں کام کر رہا ہے۔ اوبرائن کے مطابق "الحدیدہ کا رخ کرنے کے لیے متعدد جہازوں کو اجازت مل چکی ہے"۔