.

امریکی اتحاد کے الرقہ کے نزدیک فضائی حملے میں 20 شامی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی قیادت میں اتحاد کے شام میں داعش کے مضبوط گڑھ الرقہ کے نزدیک فضائی حملے میں بیس شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔ان میں نو خواتین اور دو کم سن بچے بھی شامل ہیں۔

اتحاد نے اس علاقے میں فضائی حملوں کی تصدیق کی ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ ان میں شہریوں کی ہلاکتوں کی ابھی تحقیقات کی جا رہی ہے۔برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے بدھ کو اطلاع دی ہے کہ اتحادی طیاروں نے الرقہ سے چالیس کلومیٹر شمال میں واقع گاؤں الحیشہ پر بمباری کی ہے اور اس میں بتیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

رصدگاہ کے سربراہ رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ فضائی حملے میں مرنے والے اور تمام زخمی عام شہری ہیں۔الحیشہ پر داعش کے جنگجوؤں کا قبضہ ہے اور اس پر امریکا کی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز(ایس ڈی ایف) نے الرقہ کی جانب پیش قدمی کے لیے نیا حملہ کیا ہے۔

رصدگاہ کا کہنا ہے کہ اس گاؤں پر بمباری میں ان ہلاکتوں کے بعد شام میں ستمبر 2014ء سے امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کی داعش مخالف فضائی مہم میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 680 ہوگئی ہے۔ان میں 169 بچے شامل تھے۔

اتحاد کے ترجمان کرنل جان دوریان نے ایک بیان میں ابتدائی جائزے کے بعد علاقے میں حملے کی تصدیق کی ہے۔تاہم ان کا کہنا ہے ک شہریوں کی ہلاکتوں کی ذمے داری کے تعیّن کے لیے مزید معلومات درکار ہیں اور اس واقعے کی تحقیقات جاری رہیں گی۔

دوسری جانب کرد عرب اتحاد کی خاتون ترجمان جیہان شیخ احمد نے فضائی حملے میں شہریوں کی ہلاکتوں کی رپورٹ ہی کو سرے سے مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ ''ایسا کچھ رونما نہیں ہوا ہے اور اس طرح کا دعویٰ داعش کی خبر ہی ہے''۔

ایس ڈی ایف کے تحت میڈیا نے کہا ہے کہ الحیشہ پر فضائی حملے میں داعش کے چھے جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔اس نے انتہا پسند گروپ پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ شہریوں کو گاؤں سے باہر نکلنے سے روک رہا ہے تا کہ انھیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ اس گاؤں کے بعض مکینوں نے بھی اس الزام کی تصدیق کی ہے۔

ایس ڈی ایف نے اتوار کو الرقہ پر قبضے اور وہاں سے داعش کو نکال باہر کرنے کے لیے کارروائی کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔داعش کو اس وقت سرحد پار عراق کے شمالی شہر موصل میں بھی عراقی فورسز کے ایک بڑے حملے کا سامنا ہے اور وہ وہاں چاروں طرف سے گِھر چکے ہیں۔