.

شام : ادلب پر فضائی حملہ، دو حاملہ خواتین اور سات بچے جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں ایک فضائی حملے میں سات بچے اور دو حاملہ خواتین جاں بحق ہوگئی ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ ادلب کے جنوب میں واقع قصبے خان شیخون پر یہ حملہ بظاہرشامی حکومت کے اتحادی روس کے لڑاکا طیارے نے کیا ہے۔

رصدگاہ شام میں موجود اپنے نیٹ ورک کے ذرائع کی فراہم کردہ معلومات کی بنا پر لڑائی میں مارے جانے والے افراد کی اطلاع دیتی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ وہ فضائی حملے کرنے والے طیاروں کی قسم ،جگہ ،پرواز کے انداز اور گرائے گئے بموں سے حملہ آور قوت کا سراغ لگاتی ہے۔

روس ستمبر 2015ء سے شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں باغی گروپوں کے ٹھکانے پر بمباری کررہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ ''دہشت گردوں'' کو نشانہ بنا رہا ہے۔

لیکن رصدگاہ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ ''اس فضائی حملے میں ایک گلی کو نشانہ بنایا گیا ہے جہاں کم سن بچے کھیل رہے تھے۔مرنے والے تین بچے ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور وہ اپنے دادا سے ملنے کے لیے وہاں آئے تھے''۔انھوں نے مزید بتایا ہے کہ مرنے والوں میں چار بچیاں اور تین لڑکے تھے۔تاہم انھوں نے ان کی عمریں نہیں بتائی ہیں۔

واضح رہے کہ صوبہ ادلب کے زیادہ تر علاقوں پر مختلف اسلامی جنگجو گروپوں پر مشتمل جیش الفتح کا کنٹرول ہے۔ماضی میں القاعدہ سے وابستہ فتح الشام محاذ بھی اسی اتحاد میں شامل ہے۔فتح الشام کو اقوام متحدہ اور امریکا نے دہشت گرد تنظیم قرار دے کر بلیک لسٹ کر رکھا ہے اور روس کا کہنا ہے کہ اس کے جنگجو اس کا جائز ہدف ہیں۔

درایں اثناء شام کے سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ حکومتی فورسز نے شمالی شہر حلب کے جنوب مغرب کی جانب پیش قدمی کی ہے اور باغی گروپوں سے ایک علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔رامی عبدالرحمان نے بھی اس پیش قدمی کی اطلاع دی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے حکومتی فورسز حلب کے جنوب میں پہلے سے اپنے زیر قبضہ علاقوں کا تحفظ کرسکیں گی۔

باغی گروپوں نے مشرقی حلب کا محاصرہ ختم کرانے کے لیے شامی فورسز کے زیر قبضہ اس علاقے میں دراندازی کی کوشش کی تھی۔باغیوں کے زیر قبضہ حلب کے مشرقی علاقے میں اس وقت قریباً ڈھائی لاکھ شہری محصور ہیں۔شامی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں نے جولائی اس کی مکمل ناکا بندی کر رکھی ہے۔شہر کے مکینوں نے خبردار کیا ہے کہ غذائی اجناس اور ادویہ کی قلّت بڑھتی جا رہی ہے۔