.

ٹرمپ کی جیت سے نیوکلیئر معاہدہ منسوخ نہیں ہوگا : ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہو جانے پر بدھ کے روز ایرانی حکومت کے پہلے سرکاری ردعمل میں صدر حسن روحانی نے باور کرایا ہے کہ ٹرمپ کی جیت کے نتیجے میں نیوکلیئر معاہدہ منسوخ نہیں ہو سکتا۔

ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے انتخاب کے حوالے سے ان کے ملک کے لیے اہم معاملہ امریکی حکومت کی کارکردگی اور نافذ کی جانے والی پالیسیاں ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم میں پہلے یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ 2015 میں چھ بڑے ممالک اور تہران کے درمیان طے پائے جانے والے نیوکلیئر معاہدے کو پھاڑ ڈالیں گے۔ بعد ازاں انہوں نے اپنے رویے کی حدت میں کمی لاتے ہوئے کہا کہ " وہ معاہدے کی شقوں پر عمل درامد کی کڑی نگرانی کریں گے تاکہ اسے برے معاہدے سے ایک اچھے معاہدے میں تبدیل کیا جا سکے"۔

بہرامی کے مطابق گزشتہ دہائیوں میں ایران کے امریکی حکام کی پالیسیوں کے ساتھ تجربے ناخوش گوار اور تلخ نوعیت کے رہے۔

نیوکلیئر معاہدہ

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے نیوکلیئر معاہدے پر عمل درامد کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ٹرمپ کے امریکی صدر منتخب ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ " یہ چناؤ امریکی عوام کا ہے تاہم نئے صدر کو چاہیے کہ وہ عالمی اور خطے کے حقائق کو صحیح معنوں میں سمجھیں۔ ان پر لازم ہے کہ وہ نیوکلیئر معاہدے کے حوالے سے امریکی پاسداری کا احترام کریں"۔

مبصرین کے نزدیک امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے حوالے سے پالیسیاں بنیادی طور پر مختلف ہوں گی۔ بالخصوص وہ کانگریس میں ارکان پارلیمنٹ کے ایک بڑے مجموعے کو پائیں گے جو ٹرمپ کی رائے کی حمایت کرے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے شعبہ فارسی کے ڈائریکٹر اور ایرانی امور کے ماہر مسعود الفک کا کہنا ہے کہ " یقینا ٹرمپ ایران پر مزید دباؤ کو بڑھائیں گے اس طرح نیوکلیئر معاہدہ خطرے میں پڑ جائے گا۔ تاہم 5+1 ممالک کی جانب سے دستخط کیے گئے معاہدے کے تحت امریکا کا اپنے وعدوں کی پاسداری سے پیچھے ہٹ جانا دشوار ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ایران کے حوالے سے ٹرمپ کے لیے تختہ مشق امریکا کی وہ یک طرفہ پابندیاں ہوں گی جو اس نے ایران کے خلاف مختلف ناموں سے عائد کر رکھی ہیں۔ ان میں میزائل پروگرام ، دہشت گردی کی سپورٹ اور انسانی حقوق شامل ہیں۔ امریکا نے ان پابندیوں کو باقی رکھا ہوا ہے اور نیوکلیئر معاہدے سے مربوط پابندیوں کی طرح ان کو ختم نہیں کیا ہے۔