.

روس نے حلب میں جنگ بندی کی توسیع میں انکار کیوں کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کی وزارت دفاع نے شام کے جنگ زدہ شہر حلب کی مشرقی کالونیوں میں محصور لاکھوں شہریوں تک امدادی سامان کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے جنگ بندی کے دورانیے میں توسیع کا مطالبہ مسترد کردیا ہے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع کا مطالبہ غیر منطقی اور بے سود ہے کیونکہ جنگ بندی سے دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے کا ایک نیا موقع مل جاتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جمعرات کو روسی وزارت خارجہ کے ترجمان ایگور کناشنکوف نے ایک بیان میں کہا کہ انہیں حلب میں امدادی سرگرمیوں کے لیے قائم کردہ ایکشن گروپ کے چیئرمین یان ایگلانڈ کا ایک پیغام موصول ہوا ہے جس میں انہوں نے مشرقی حلب کی کالونیوں میں امدادی سامان پہنچانے کے لیے جنگ بندی میں مزید توسیع کا مطالبہ کیا ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم نے ریلیف ایکشن گروپ کے سربراہ کو بتا دیا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع کا کوئی فایدہ نہیں۔ یہ غیر منطقی مطالبہ ہے۔ جنگ بندی میں توسیع کے نتیجے میں حکومت مخالف جنگ جو خود کو دوبارہ منظم کر کے حملے کرتے ہیں۔ اس لیے جنگ بندی میں توسیع کا کوئی مطالبہ نہیں مانا جائے گا۔

قبل ازیں ریلیف ایکشن گروپ کے چیئرمین یان ایگلان نے خبردار کیا تھا کہ اگر جنگ بندی میں توسیع نہ کی گئی تو مشرقی حلب کی دسیوں کالونیوں میں چار ماہ سے محصور اڑھائی لاکھ شامی باشندوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مشرقی حلب کے محصور علاقوں تک امدادی سامان اور ادویات کی فراہمی کی فوری ضرورت ہے۔ شامی حکومت اور روس کی طرف سے مشرقی حلب کے محصور علاقوں تک امداد پہنچانے پر پابندی لاکھوں افراد کو بھوک سے مرنے پر مجبور کرنا ہے۔

خیال رہے کہ روسی فوج کی طرف سے یک طرفہ طور پرحلب میں جنگ بندی کا اعلان کیا جاتا رہا ہے۔ اس اعلان کے ساتھ جنگجوؤں کو علاقہ چھوڑنے کی ترغیب بھی دی جاتی رہی ہے مگر جنگجوؤں کے لیے محفوظ راستوں کے مشکوک ہونے کی بناء پر بہت کم جنگجو حلب سے باہر منتقل ہوئے ہیں۔

چار نومبر کو روسی فوج نے صرف 10 گھنٹے کے لیے حلب میں جنگ بندی کی تھی۔ جب کہ اکتوبر کے آخر میں تین دن تک حلب میں جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اقوام متحدہ جنگ سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان پہنچانے میں ناکام رہا ہے۔