.

اوباما کا شام میں "جبہۃ فتح الشام" کو نشانہ بنانے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما نے پینٹاگون کو شام میں "جبہۃ فتح الشام" (جفش) تنظیم کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے احکامات جاری کیے ہیں۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ فیصلے میں مزید ڈرون طیاروں کا بھیجا جانا اور کارروائی کے لیے مطلوب انٹیلی جنس معلومات کا فراہم کیا جانا شامل ہے۔

ڈرون حملوں نے اکتوبر سے اپنی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔ اخبار نے عسکری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملے میں "جفش" کے چار کمانڈر ہلاک ہو گئے۔ امریکی ذمے داران اس امر کو معتدل مسلح شامی اپوزیشن کے لیے یہ پیغام شمار کر رہے ہیں کہ وہ "جفش" سے دور رہیں۔ معلوم رہے کہ دونوں فریق شامی حکومت کے خلاف شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں۔

دوسری جانب فیصلے کے مخالف ذمے داران کے نزدیک یہ فیصلہ شامی حکومت کے خلاف لڑنے والے اپوزیشن گروپوں کو کمزور کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

"جفش" کی قیادت کو نشانہ بنانے کی سرکاری امریکی تصدیق نہیں ہوئی : روس

ادھر روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے "واشنگٹن پوسٹ" کی خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ"حال ہی میں غیر مصدقہ خبروں پر مشتمل اخباری رپورٹوں پر تبصرہ کرنا کافی مشکل ہے"۔

ریابکوف نے باور کرایا کہ اگر فیصلے سے متعلق خبر صحیح ہے تو اس کا خیرمقدم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خارجہ اور سفارتی پالیسی میں سرکاری بیانات پر ردعمل کا اظہار کیا جاتا ہے جب کہ ایسا نہیں ہوا۔

ریابکوف نے نیٹو اتحاد کی جانب سے روس پر روک لگانے کے لیے حکمت عملی اپنانے پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماسکو کے سامنے ابھی تک نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو کی مذکورہ حکمت عملی کے بارے میں کوئی موقف نہیں آیا۔ ریابکوف کے مطابق اس مسئلے کا تجزیہ نئے صدر کی ٹیم تشکیل پانے کے بعد کیا جانا چاہیے۔