.

"حوثی" خطیب نے اپنی جماعت کو "چوروں کا ٹولہ" قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی دارالحکومت صنعاء میں باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ باغی حوثی ملیشیاؤں نے دارالحکومت کی ایک مسجد کے خطیب کو (جو حوثی جماعت سے ہی تعلق رکھتے ہیں) سخت دھمکیاں دی ہیں۔ یہ اقدام مذکورہ خطیب کی جانب سے حوثی ملیشیاؤں کو "چوروں کا ٹولہ" قرار دینے اور سخت تنقید کا نشانہ بنانے کے بعد کیا گیا ہے۔

ملیشیاؤں کی جانب سے صنعاء کی مسجد النہرین کے امام و خطیب الشیخ یحیی الدیلمی کو (جو معروف حوثی ہاشمی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں) خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے دوبارہ اپنے خطبوں میں حوثی جماعت پر نکتہ چینی کی تو ان کو خطابت سے ہٹا کر ان کی جگہ ایک نیا امام و خطیب مقرر کر دیا جائے گا۔

الدیلمی نے گزشتہ جمعے کو اپنے خطبے میں حوثیوں کو چور قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے یمن کی دولت کو چوری کیا ہے جب کہ ایک عام یمنی شہری کی حالت ابتری کا شکار ہے۔

الدیلمی کے مطابق یمن دولت سے مالا مال ہے تاہم اس کی غنیمتوں کو لوٹ لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معزول صدر صالح کی حکومت یمن کی پسماندگی ، ابتر حالت اور پیچھے رہ جانے کی وجہ ہے.. اور معزول صالح اور اس کے حلیف حوثیوں کی جانب سے آئینی حکومت کے خلاف انقلاب کا اصل مقصد ملک کی دولت چوری کرنا ہے۔

یمن میں مساجد کے "غیر حوثی" خطیبوں میں سے کسی کی جانب سے بھی ان مسلح ملیشیاؤں پر تنقید نہیں کی گئی اس لیے کہ وہ جانتے ہیں کہ مسلح جماعت کی جانب سے سامنے آنے والا ردعمل محض خطابت سے روکنے اور دوسرے امام کے تقرر کی دھمکی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ جواب کارروائی خون ریز ہو گی۔

حوثیوں کے ایک نمایاں کمانڈر اور "سپریم انقلابی کونسل" کے رکن محمد المقالح نے مئی میں انکشاف کیا تھا کہ انہیں حوثی جماعت کے سربراہ عبدالملک الحوثی کے چچا عبدالکریم الحوثی کے دفتر سے دھمکی موصول ہوئی جس میں جماعت پر تنقید کرنے اور اس کے بھیناک نتائج سے خبردار کیا گیا تھا۔

المقالح نے اس وقت فیس بک پر اپنے صفحے پر ایک پوسٹ میں بتایا تھا کہ حوثیوں کے سربراہ کا چچا کرایوں ، اراضی اور محصولات کے ذریعے تمام رقوم کے انتظامی امور کو چلاتا ہے اور جماعت کے اندر بدعنوانی کا بڑا تناسب اسی کے ذریعے عمل میں آتا ہے۔

حوثی جماعت کے ایک سابق کمانڈر علی البخیتی نے بھی انکشاف کیا تھا کہ حوثیوں کی قیادت کے اندر بدعنوانی پھیل چکی ہے جو یمنی عوام کی تکالیف پر اپنی دکانیں چمکا رہے ہیں۔

حوثیوں کی بدعنوانی کے حوالے سے یہ تمام انکشافات ایسے وقت میں منظر عام پر آ رہے ہیں جب کہ یمن میں دس لاکھ سے زیادہ ملازمین کو کئی ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔