.

داعش کے کیمیائی حملے میں زخمی عراقی سخت اذیت میں مبتلا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے عراق کے شمالی علاقوں میں اپنے دفاع کے نام پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں اور ان سے متعدد عراقی بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ان کے جسم کی بیرونی جلد جل گئی ہے یا اس کی رنگت تبدیل ہو کر سیاہ ہوگئی ہے اور اس وقت وہ سخت اذیت میں مبتلا ہیں۔

پانچ سالہ بچی دعا بھی داعش کے القیارہ شہر پر مبینہ کیمیائی حملے کے متاثرین میں شامل ہے۔اس کی ٹانگوں ،ہاتھوں اور گردن کی جلد سیاہ اورسخت ہوگئی تھی اور حملے کے کئی ہفتے کے بعد بھی وہ شدید درد کی شکایت کررہی ہے اور کسی کو اپنے جسم کو ہاتھ نہیں لگانے دیتی ہے۔

دعا کے والد عبداللہ سلطان اور دوسرے مکینوں نے بتایا ہے کہ داعش کا چلایا گیا ایک راکٹ جب ہمسایوں کے باغ میں گرا تھا تو وہ اپنے گھر کے صحن میں کھیل رہی تھی۔اس راکٹ کے پھٹنے کے بعد اس سے زہریلی گیس کا اخراج ہوا تھا۔

اس دھماکے کے کوئی ایک ماہ کے بعد بھی اس جگہ سے جلنے کی خطرناک بو آتی ہے۔جس جگہ سے یہ راکٹ پھٹا تھا ،اس کے نزدیک واقع دیوار سیاہ ہوگئی تھی اور باغیچے میں لگے پودے اور سبزیاں مرجھا گئی تھیں۔اس راکٹ کا ایک حصہ ابھی تک وہیں پڑا ہے اور مکین اس کو ہاتھ لگانے سے کترا رہے ہیں۔ باقی ملبہ امدادی کارکنوں نے وہاں سے ہٹا دیا ہے۔

تینتیس سالہ عبداللہ سلطان نے بتایا ہے کہ ''ہم یہ نہیں جانتے کہ اس راکٹ میں کیا عنصر شامل تھا لیکن جو کچھ ہم جانتے ہیں ،وہ یہ کہ اس کے پھٹنے کے بعد دعا کے تمام جسم پرسیاہ دھبے بن گئے تھے اور وہ ٹھیک نہیں ہو پا رہی ہے''۔

وہ عراق کے شمالی شہر القیارہ میں داعش کے ستمبر اور اکتوبر میں چوتھے کیمیائی حملے کا شکار ہوئی تھی۔داعش نے مبینہ طور پر گذشتہ مہینوں کے دوران شہری علاقوں پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملے کیے تھے اور امدادی کارکنان نے تین اور واقعات میں شہریوں کے کیمیائی گیسوں یا مواد سے حملوں میں متاثر ہونے کی اطلاع دی ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ داعش نے ایمونیا اور سلفر کا اپنے زیر قبضہ شہری علاقوں میں ذخیرہ کررکھا ہے۔اس نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ عراقی فورسز کی شمالی شہر موصل کے اندر پیش قدمی کی صورت میں داعش اپنے دفاع کے لیے مزید کیمیائی حملے کرسکتے ہیں۔

عراقی فورسز امریکا کی قیادت میں اتحاد کی فضائی قوت کی مدد سے 17 اکتوبر سے داعش کو موصل سے نکال باہر کرنے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کررہی ہیں۔ موصل سے پچاس کلومیٹر جنوب میں واقع القیارہ پر داعش نے مذکورہ کیمیائی حملہ اس کارروائی کے آغاز سے قبل کیا تھا۔عراقی فورسز نے اگست میں اس شہر اور اس کے ہوائی اڈے پر قبضہ کر لیا تھا لیکن گذشتہ ماہ کے آخر تک داعش کے جنگجو اس شہر میں موجود رہے تھے۔