.

عراق اور حلب میں بیلسٹک میزائل تیار کر رہے ہیں : ایرانی مشیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی وزارت خارجہ کے مشیر حسین شیخ الاسلام کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائلوں کی تیاری شام کے اندر تک محدود نہیں بلکہ اس میں خطے کے دیگر ممالک بھی شامل ہیں۔

حسین نے بیرون ملک ایرانی میزائلوں کی تیاری کا دائرہ وسیع کرنے کو "خطے میں اسرائیلی خطرہ بڑھ جانے" کے ساتھ مربوط کیا۔ انہوں نے اس حوالے سے دیگر ممالک کا نام نہیں بتایا تاہم اس جانب ضرور اشارہ کیا کہ بیلسٹک میزائلوں کی تیاری جن ممالک کو منتقل کی گئی ہے ان میں عراق شامل ہے۔ حسین کے مطابق تہران نے میزائلوں کی تیاری سے متعلق تربیت اور ٹکنالوجی کو خطے میں پھیلایا ہے۔

حسین شیخ الاسلام کا بیان ایرانی چیف آف اسٹاف کے مماثل بیان کے دو روز بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران بیلسٹک میزائل کی تیاری کے عمل کو شام کے شہر حلب منتقل کیا گیا ہے۔

حالیہ کچھ عرصے کے دوران پاسداران انقلاب کے زیر انتظام ایک نیوز ایجنسی نے اقرار کیا تھا کہ حوثی ملیشیائیں ایرانی میزائلوں کا استعمال کر رہی ہیں اگرچہ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اس کی تردید کی تھی۔

اسی سے متصل سیاق میں بیرون ملک ایرانی اپوزیشن نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ فضائی کمپنی ماہان پر مکمل پابندیاں عائد کی جائیں۔ اپوزیشن نے باور کرایا کہ یہ کمپنی ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر انتظام ہے اور اس کے ذریعے ہتھیار ، عسکری ساز و سامان اور پاسداران انقلاب کے ارکان کو شام پہنچایا جاتا ہے جو کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔