.

’ہیلری کی شکست پر ایرانی اصلاح پسند غم سے نڈھال ہیں’

سپریم لیڈر کے مندوب کی اصلاح پسندوں پر کڑی تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ایک مندوب خاص نے ایران کے اصلاح پسندوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ہیلری کلنٹن کی شکست پراصلاح پسندوں کوبہت دکھ پہنچا ہے۔ وہ ایسے غم سے نڈھال ہیں جیسے ان کا کوئی پیارا ان سے چھن گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق ’کیھان‘ میڈیا فاؤنڈیشن میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مندوب حسین شریعت مداری نے کہا کہ امریکی انتخابات میں ہیلری کلنٹن کی شکست پر ایران کے اصلاح پسندوں کو بہت دکھ پہنچا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ اصلاح پسندوں کا کوئی جگری دوست انتخابات میں ہار گیا ہے۔

شریعت مداری کا اشارہ امریکی صدر کے اس کردار کی جانب تھا جس میں انہوں نے ایران کےاصلاح پسندوں کو جوہری پروگرام پر کامیاب معاہدہ کرانے، ایران کو بحرانوں سے بچانے میں مدد دینے، عرب خطے میں ایران کےتوسیع پسندانہ عزائم میں مدد کرنے اور خطے اور پوری دنیا میں دہشت گردی کی ایرانی حمایت کو نظر انداز کردیاتھا۔

’فارس‘ نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے حسین شریعت مداری نے کہا کہ اصلاح پسندوں کے ایک ترجمان اخبار نے امریکی انتخابات میں ہیلری کی شکست پر لکھا ہے کہ ’’ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی پر مجسمہ آزادی بھی رو پڑا ہے‘‘۔ گویا اس سے قبل آج تک امریکا میں جتنے بھی صدارتی انتخابات ہوتے رہے ہیں ان میں مجسمہ آزادی بھنگڑے ڈالتا رہا ہے۔

شریعت مداری نے اصلاح پسندوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہیلری کلنٹن کی انتخابی شکست سے ہمارےاصلاح پسندوں کو اتنا دکھ پہنچا ہے جیسے ان کا کوئی بہت چہتا ان سے چھن گیا ہے۔

خیال رہے کہ حسین شریعت مداری کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد ایران کے جوہری پروگرام پر طے پایا معاہدہ ایک بار پھر خطرے میں پڑ گیا ہے۔ ایرانی اصلاح پسندوں کو خدشہ ہےکہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ایٹمی پروگرام پر معاہدہ منسوخ کردیا تو ایران ایک بار پھر عالمی پابندیوں کی زد میں آجائے گا مگر ایران کے شدت پسند حلقوں کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔