.

شام : لڑائی میں تین ایرانی فوجی افسر ،دسیوں پاکستانی اور افغان ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مغربی صوبے حلب میں باغی گروپوں کے خلاف حالیہ لڑائی میں ایران کے تین فوجی افسروں سمیت پاکستان ،افغانستان سے تعلق رکھنے والے دسیوں شیعہ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

ایران کے مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق حلب کے مشرق میں پاسداران انقلاب کے تین فوجی افسر اور افغانستان اور پاکستان سے تعلق رکھنے والی ملیشیاؤں کے دس سے زیادہ شیعہ جنگجو صدر بشارالاسد کی فوج کے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے مارے گئے ہیں۔

اس سے قبل ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کا ایک رپورٹر محسن خزائی حلب ہی میں ہفتے کے روز لڑائی میں ہلاک ہوگیا تھا۔اس پر اپنی صحافت کو فرقہ پرستی کے فروغ کے لیے استعمال کرنے پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔

درایں اثناء شامی گروپ ''جیش الحر ادلب'' نے حال ہی میں ایک ویڈیو جاری ہے جس میں ایرانی ملیشیا پر ایک تھرمل راکٹ کے حملے کو فلمایا گیا ہے۔اس حملے میں ایرانی ملیشیا کے متعدد جنگجو ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔

حلب کے محاذ پر حال ہی میں ایرانی فوج کے متعدد اعلیٰ افسر ہلاک ہوئے ہیں جبکہ شامی باغیوں کے خلاف لڑائی میں ایرانیوں کی ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ایرانی میڈیا نے حلب میں جاری لڑائی میں ہلاک ہونے والے بعض اعلیٰ فوجی افسروں کی شناخت بھی ظاہر کی ہے۔ان کے نام اور عہدے یہ ہیں:پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے بریگیڈیئر جنرل ہادی زاہد ،خصوصی یونٹ کے میجر جنرل ذاکر حسین اور کمانڈوز یونٹ کے بریگیڈیئر جنرل محمد علی محمد حسینی ۔

ایران کے فارسی زبان کے میڈیا ذرائع کے مطابق شام میں صدر بشارالاسد کے دفاع میں باغی گروپوں کے خلاف لڑتے ہوئے ہلاک ہونے والے پاسداران انقلاب ایران کے اہلکاروں کی تعداد تین ہزار سے متجاوز ہوچکی ہے۔