.

عراقی فوج نے تاریخی شہر نمرود داعش سے چھین لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فوج اور انسدادہ دہشت گردی فورسز نے شمالی شہر موصل میں جاری لڑائی کے دوران مزید کئی اہم مقامات سے داعش کو نکال باہر کرتے ہوئے متعدد شہروں اور قصبوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراقی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے موصل میں پیش قدمی کرتے ہوئے کرکوکلی کالونی سے داعش کا صفایا کرنے کے بعد البکر کالونی کے بیشتر حصے کا کنٹرول بھی سنھبال لیا ہے۔

قبل ازیں اتوار کو عراقی سیکیورٹی فورسز کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ فوج نے جنوب مشرقی موصل میں واقع تاریخی شہر ’’نمرود‘‘ کو داعش سے چھڑا لیا ہے۔ یہ جگہ آشورین دور کے مرکز کے طور پر بھی مشہور ہے جو موصل کے اہم ترین تاریخی مقامات میں سے ایک ہے۔ داعش نے اس مقام پرقبضے کے بعد وہاں پر موجود بیشتر تاریخی آثار قدیمہ مسمار کرڈالے تھے۔

عراق کی جوائنٹ ایکشن فورس کے ترجمان جنرل عبدالامیر رشید یاراللہ نے بتایا کہ فوج نے نمرود شہرکو مکمل طور پر داعش سے چھڑا لیا ہے اور شہر کی تمام عمارتوں پر عراق کا قومی پرچم لہرا دیا گیا ہے۔ فوج نے مزید پیش قدمی کرتے ہوئے نمرود شہر سے کچھ فاصلے پر واقع ایک دوسرے قصبے پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

’’العربیہ‘‘ نیوز چینل کے نامہ نگار کے مطابق عراقی فوج نے پورے نمرود شہرکو ابھی تک اپنے کنٹرول میں نہیں لیا بلکہ انہوں نے صرف تاریخی قصبے نمرود پرقبضہ کیا ہے۔ تاریخی شہر کے مزید 10 اہم مقامات داعش سے چھڑانے کے لیے لڑائی جاری ہے تاہم انہیں فی الحال فوج کے کنٹرول میں نہیں لایا جاسکا۔

نمرود شہر کی تاریخی اہمیت

عراق کے علاقے موصل میں واقع ’نمرود‘ شہر کو آشوریائی تہذیب کا گم شدہ ہیرا قرار دیا جاتا ہے۔ اس شہر کی بنیاد 13 سو سال قبل مسیح میں رکھی گئی۔ یہ شہر دریائے دجلہ کے دونوں کناروں پر جنوبی موصل میں 30 کلو میٹر تک پھیلا ہوا ہے۔عراق اور شام کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کرنے والی تنظیم داعش نے جہاں کئی دوسرے تاریخی شہروں کی اینٹ سے اینٹ بجائی تھی وہیں اس شہر کو بھی برباد کر ڈالا تھا۔ عراقی فوج نے گذشتہ جمعرات کو اس شہر کی طرف پیش قدمی شروع کی تھی۔

داعشی جنگجوؤں نے عراقی فوج کے بڑھتے دباؤ کے بعد شہر میں بڑے پیمانے پر بم دھماکے کرکے باقی ماندہ تاریخی آثار کو بھی تباہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک ذرائع کا کہنا ہے کہ داعشی جنگجو تا حال نمرود شہر میں موجود ہیں۔

رواں سال کے اوائل میں تاریخی شہر نمرود کی ویڈیو سامنے آئی تھیں جن میں شہر کو تباہ وبرباد دکھایا گیا تھا۔ ہفتے کےروز داعش اور عراقی فوج کے درمیان نمرود کے آس پاس گھمسان کی جنگ شروع ہوئی تھی جس میں دونوں طرف سے ایک دوسرے پر بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیاگیا تھا تاہم عراقی فوج کے سامنے داعشی جنگجو تیزی کے ساتھ پسپائی اختیار کرتے ہوئے علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

جنوبی موصل کی طرف پیش قدمی کے لیے حکم کا انتظار

ادھر موصل کے جنوب کی سمت میں آپریشن کا عمل آگے بڑھانے کے لیے عراقی فیڈرل پولیس اعلیٰ حکام کی طرف سے حکم کے انتظارمیں ہے۔ عراقی وفاقی پولیس کے سربراہ راید شاکر کا کہنا ہے کہ پولیس اور اس کے ساتھ جنگ میں شریک جنگجو ابو سیف کے مقام کے قریب ہیں۔ ہمیں اوپر سے اعلیٰ قیادت کی طرف سے ابو سیف میں داخل ہونے کے احکامات کا انتظار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور دیگر فورسز نے اس علاقے میں داعش کی تمام دفاعی تنصیبات تباہ کردی ہیں۔ راید شاکر کا کہنا تھا کہ عراقی فورس سرکاری عمارتوں کے بہت قریب پہنچ چکی ہیں۔

درایں اثناء نینویٰ گورنری کے ایک مقامی عہدیدار نوفل العاکوب نے ہفتے کےروز اپنے بیان میں بتایا تھا کہ حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو جنگ کے دوران گھر بار چھوڑنے والے شہریوں کی واپسی کا انتظام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن علاقوں کو داعش سے چھڑالیا گیا ہے وہاں پر شہریوں کو واپس اپنے گھروں کو لوٹنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔