.

عراق کا موصل شرقی کا ایک تہائی حصہ آزاد کرانے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی وزارت داخلہ کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ سرکاری فورسز نے شمالی شہر موصل کے مشرقی حصے کے ایک تہائی علاقے کو داعش کے قبضے سے آزاد کرا لیا ہے۔

دریائے دجلہ موصل کے بیچوں بیچ بہتا ہے اور شہر کا ایک حصہ دریا کے مشرق کی جانب اور ایک مغرب میں واقع ہے۔قدیم شہر دریا کے مغربی کنارے واقع ہے اور مشرقی کنارے واقع موصل کا حصہ اس سے تھوڑا بڑا ہے۔

عراقی وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل سعد معان نے القیارہ فوجی اڈے پر منگل کے روز ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ''مشرقی موصل کے ایک تہائی سے زیادہ حصے کو داعش سے آزاد کرا لیا گیا ہے''۔

انھوں نے بتایا ہے کہ شہر کے جنوبی محاذ پر اب تک لڑائی میں 955 مزاحمت کار ہلاک ہوچکے ہیں اور 108 کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔البتہ انھوں نے گذشتہ چار ہفتے سے موصل کو بازیاب کرانے کے لیے جاری لڑائی میں داعش ،سکیورٹی فورسز یا شہریوں کی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد نہیں بتائی ہے۔

عراقی فورسز امریکا کی قیادت میں اتحاد کی فضائی قوت کی مدد سے 17 اکتوبر سے موصل اور اس کے نواحی علاقوں میں داعش کے خلاف بڑی اور فیصلہ کن کارروائی کررہی ہیں۔تاہم ابھی تک وہ شہر کے جنوبی یا شمالی حصوں میں داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہیں۔موصل کے ان علاقوں میں اس وقت بھی دس لاکھ سے زیادہ افراد رہ رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق موصل کے نواحی دیہات اور قصبوں سے 54 ہزار سے زیادہ افراد لڑائی کے نتیجے میں بے گھر ہوگئے ہیں۔ داعش نے جن ہزاروں افراد کو یرغمال بنا رکھا ہے،ان کی تعداد ان کے علاوہ ہے۔

عراقی فورسز نے داعش سے موصل کے جن مشرقی علاقوں کو قبضے میں لیا ہے،وہاں شہریوں کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے اور منگل کے روز سیکڑوں شہری کھانے پینے کی اشیاء کے حصول کے لیے قطاروں میں کھڑے نظر آئے ہیں۔

عراقی فوج کے ایک میجر سالم العبیدی کا کہنا ہے کہ موصل کے علاقوں الزہرا اور قدسیہ میں تین جگہوں پر قریبا سات سو شہری خوراک کے لیے جمع ہوئے ہیں۔قدسیہ میں ایک روز قبل ہی عراقی فورسز اورداعش کے جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائی ہوئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ''ہمارے پاس ان لوگوں کے لیے مناسب خوراک دستیاب نہیں ہے۔ہمیں اس مسئلے کا سامنا ہے اور ہم حکومت کی جانب سے خوراک بھیجے جانے کے منتظر ہیں۔تب تک عراقی فوجی اپنے حصے کی خوراک ان شہریوں میں تقسیم کررہے ہیں''۔

عراقی فورسز نے موصل کے مشرقی حصے میں قدم تو جما لیے ہیں مگر انھیں داعش کے جنگجوؤں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے اور وہ شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کے لیے سست روی سے شہر کے اندر پیش قدمی کررہی ہیں جبکہ داعش کے جنگجو بھی اچانک مکانوں یا گلیوں سے نکل کر ان پر حملہ آور ہوجاتے ہیں۔

گذشتہ روز قدسیہ میں داعش کے بیس سے زیادہ خودکش جنگجوؤں کی عراقی فوجیوں سے تین گھنٹے تک لڑائی ہوئی تھی۔تاہم عراقی فورسز نے انھیں ہلاک کردیا تھا۔میجر جنرل سامی العریدی کے بہ قول اس لڑائی میں صرف ایک فوجی زخمی ہوا تھا۔

عراق کی مسلح افواج داعش کے خلاف موصل میں جاری لڑائی میں ہلاکتوں کے اعداد وشمار جاری نہیں کررہی ہیں۔تاہم محاذ پر موجود طبی عملے کا کہنا ہے کہ دسیوں فوجی ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں۔

درایں اثناء امریکا کی قیادت میں اتحادی فورسز کے ترجمان کرنل جان دوریان نے موصل کے نواح میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ اب تک داعش کے خلاف فضائی حملوں میں 59 کار بموں اور 80 سے زیادہ سرنگوں کو تباہ کیا جاچکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب تک موصل اور دوسرے علاقوں میں عراقی پرچم بلند نہیں ہوجاتا،ہم دشمن کے خلاف فضائی حملے جاری رکھیں گے۔انھوں نے مزید بتایا ہے کہ داعش کے خلاف مہم کے آغاز کے بعد سے اتحادی طیاروں یا توپ خانے نے چار ہزار سے زیادہ حملے کیے ہیں۔