.

مصر : معزول صدر ڈاکٹر مرسی کی سزائے موت کالعدم قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک اعلیٰ اپیل عدالت نے معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو سنائی گئی سزائے موت کالعدم قرار دے دی ہے اور ان کے خلاف مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا ہے۔

قاہرہ کی ایک فوج داری عدالت نے جون 2015ء میں ڈاکٹر محمد مرسی کو سنہ 2011ء کے اوائل میں سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران ایک جیل کو توڑنے کے مقدمے میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے اسی مقدمے میں اخوان المسلمون کے مرشدعام محمد بدیع ، نائب مرشدعام خیرت الشاطر ،سینیر رہ نماؤں محمد البلتاجی اور محمد عبدالعاطی کو بھی سزائے موت سنائی تھی۔اس مقدمے میں تیرہ دیگر مدعاعلیہان کو ان کی عدم موجودگی میں موت کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

اپیل عدالت کے آج کے فیصلے کے بعد ڈاکٹر مرسی کے خلاف سنائی گئی پھانسی کی تمام سزائیں ختم ہو چکی ہیں اور اب انھیں تختہ دار پر لٹکانے کا کوئی خدشہ نہیں رہا ہے۔البتہ انھیں جاسوسی اور دوسرے مقدمات میں سنائی گئی قید کی لمبی سزائیں برقرار ہیں اور وہ اس وقت جیل کاٹ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ مصر کی مسلح افواج کے سربراہ (موجودہ صدر) عبدالفتاح السیسی نے قاہرہ اور دوسرے شہروں میں احتجاجی مظاہروں کے بعد ڈاکٹر محمدمرسی کو 3 جولائی 2013ء کو صدارت سے معزول کردیا تھا اور انھیں گرفتار کرکے پس دیوار زنداں کردیا گیا تھا۔مصر کی ایک عدالت نے انھیں جاسوسی کے جرم میں قصور وار قرار دے کر عمر قید سنائی تھی۔اس عمر قید کی مدت پچیس سال ہے اور وہ اس فیصلے کے خلاف کسی اعلیٰ عدالت میں نظرثانی کی اپیل بھی نہیں کرسکتے تھے۔

اسی مقدمے میں عدالت نے الجزیرہ ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے دو ملازمین سمیت چھے افراد کو مصر کی قومی سلامتی سے متعلق دستاویزات قطر کو دینے کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی۔انھوں نے مبینہ طور پر ڈاکٹر محمد مرسی کے مختصر دور صدارت میں یہ دستاویزات قطر اور دوحہ میں قائم ٹی وی نیٹ ورک تک پہنچائی تھیں۔