.

شام : بشار کے اختیار کے سقوط کے بعد حزب اللہ کی حاکمیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی دہشت گرد تنظیم حزب اللہ کی جانب سے لبنان کی سرحد کے مقابل شام کے علاقے "القصير" میں غیر مسبوق نوعیت کی عسکری پریڈ کے حوالے سے بہت سے رد عمل سامنے آ رہے ہیں۔ مبصرین کے نزدیک اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حزب اللہ کی فورسز شام کی سرزمین پر طویل المدت بقاء کا ارادہ رکھتی ہیں۔

لبنانی روزنامے "النہار" نے اپنی بدھ کی اشاعت میں کہا ہے کہ کسی بھی ملیشیا کی جانب سے عسکری پریڈ کا مطلب یقینا اس ملک کی حاکمیت کا خاتمہ ہوتا ہے.. خواہ وہ حلیف ملیشیا ہی کیوں نہ ہو۔

"حزب الله" شام پر قبضے میں شریک

مذکورہ اخبار کے مطابق شامیوں کی ہلاکت اور ان کے انقلاب کو کچلنے کے واسطے بشار حکومت کی اتحادی حزب اللہ ملیشیاؤں کی جانب سے عسکری پریڈ " اس بات کو باور کراتی ہے کہ شام اب ہر گز اس حالت پر نہیں لوٹے گا جس حالت میں پہلے تھا"۔ ایران کی پیروکار ملیشیاؤں کی جانب سے عسکری پریڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ "حزب الله" قابلِ قیاس مستقبل میں اپنے لیے شام میں ٹھکانا مختص کر چکی ہے اور اس کا شام سے انخلاء کا کوئی ارادہ نہیں۔

بشار کا اپنے ساتھ لڑنے والوں پر کوئی اختیار نہیں !

لبنان کی نگراں حکومت کے وزیر انصاف اشرف ریفی نے رواں ماہ کی 14 تاریخ کو اپنی ٹوئیٹس میں باور کرایا ہے کہ اگر "حزب الله" عسکری پریڈ کے ذریعے عالمی برادری کو یہ پیغام دینا چاہتی تھی کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شراکت دار ہے تو یہ "کھوٹا سکہ چلانے والی بات ہے"۔ اشرف ریفی نے " ایرانی ہدایات کو مسترد کر دینے والی" ملک کی تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا وہ لبنان کو بچانے کے لیے ایک ہوجائیں جسے حزب اللہ ایران کے مںصوبے کی خدمت کے واسطے بطور پلیٹ فارم استعمال کر رہی ہے۔

ادھر شام کے اپوزیشن اتحاد کے رکن میشیل کیلو کا کہنا ہے کہ "حزب الله" ملیشیاؤں کی جانب سے شام میں عسکری پریڈ اس بات کا پیغام ہے کہ "یہ ملیشیائیں اب محض جنگو فورس نہیں رہیں بلکہ قابض فورسز بن چکی ہیں۔ ساتھ ہی حزب اللہ یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ وہ اُس ایرانی وجود کا حصہ ہے جس نے پورے شام کو ڈھانپ رکھا ہے"۔

تاہم شام کی جیشِ حُر کے قانونی مشیر اسامہ ابو زید نے اخباری بیان میں باور کرایا ہے کہ "حزب الله" کی پریڈ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ " بشار کا اپنے ساتھ لڑنے والے لوگوں پر کوئی اختیار نہیں.. اور بشار کے ساتھ ان کے لڑنے کا مقصد رسوخ اور جغرافیائی علاقوں کی تقسیم ہے"۔