.

حزب اللہ نے اپنی ریاست کا اعلان کر دیا: مخالفین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے علاقے القصیر میں لبنانی ملیشیا حزب اللہ کی غیر مسبوق نوعیت کی عسکری پریڈ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ بالخصوص حزب اللہ کے نائب سکریٹری جنرل نعیم قاسم کے اس بیان کے بعد جس میں اس نے کہا تھا کہ عسکری پریڈ سےسامنے آنے والا پیغام واضح ہے کہ ملیشیا ایک تربیت یافتہ فوج کی صورت اختیار کر چکی ہے اور اب گوریلا جنگ کا استعمال نہیں کرتی۔ نعیم قاسم کے حوالے سے یہ بیان لبنانی روزنامے السفیر نے شائع کیا۔

حزب اللہ کی جانب سے اس پیغام نے ملیشیا کے مخالفین کے جذبات کو مشتعل کر دیا اور انہوں نے اس کا مطلب یوں لیا ہے کہ حزب اللہ نے صریح طور پر اپنی ریاست کا اعلان کر ڈالا ہے جو باقاعدہ فوج کی مالک ہے۔

مذکورہ عناصر نے حزب اللہ کے موٹو "عوام - فوج - مزاحمت" کو ہیش ٹیگ "فوج - عوام - ملیشیا" میں تبدیل کر دیا۔ اس ٹیگ نے حزب اللہ کے مخالفین اور حامیوں کے درمیان جنگ چھیڑ دی ہے۔گو

بعض دیگر حلقوں کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی ملیشیا کی آئندہ عسکری پریڈ بیروت میں یا پھر طرابلس ، قریطم اور حلب کے درمیان ہو گی جو کہ سنی اکثریتی اور حزب اللہ مخالف علاقے ہیں۔

حزب اللہ ملیشیا نے ایک بیان میں خود کے فوج میں تبدیل ہوجانے کی جزوی تردید کی ہے تاہم بیان میں گوریلا جنگ کے اسلوب کا استعمال روک دینے سے متعلق کوئی تردید نہیں ہے۔

دوسری جانب حزب اللہ کے ہمنوا اخبارات نے شام کے علاقے القصیر میں ہونے والی عسکری پریڈ کو اسرائیل کے لیے ایک پیغام شمار کیا ہے۔ تاہم حزب اللہ کے مخالفین نے پیغام کی تشریح کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تل ابیب کے لیے ایک تسلی ہے کہ گوریلا جنگ کے استعمال کو روک دینے کا مطلب ہے کہ فریقین کے درمیان تنازع ممکنہ طور پر ختم ہوچکا ہے۔