.

حلب کا معرکہ ۔۔ بشار حکومت کی تیاری زوروں پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شہر حلب میں لڑائی کے میدان سے آنے والی خبروں کے مطابق بشار کی فوج حلب شہر کے مشرقی علاقوں پر جلد حملے کی تیاری کر رہی ہے۔ کارروائی میں اسے بحیرہ روم میں موجود روسی طیارہ بردار بحری جہاز کی فضائی معاونت بھی حاصل ہو گی۔

اس سے قبل گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران حلب کے مشرقی علاقوں پر شامی حکومت کے لڑاکا طیاروں کے حملوں میں 84 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

حلب میں شامی اپوزیشن کے زیر کنٹرول مشرقی حصے پر بم باری کی ذمے داری بشار حکومت کے طیاروں نے سنبھالی ہوئی ہے جب کہ روسی لڑاکا طیارے ادلب اور حمص میں دیگر علاقوں کو نشانہ بنانے رہے ہیں۔

روس نے حمص اور ادلب صوبوں میں داعش اور جبہۃ فتح الشام کے ٹھکانوں کے خلاف اپنی نئی عسکری مہم کے سلسلے میں اہداف مخصوص کر لیے ہیں۔ اس دوران روسی افواج نے اپنے یا بشار حکومت کی جانب سے حلب شہر کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔ یہ موقف خود بشار حکومت کے اپنے اعلان کے متضاد ہے جس نے حلب میں اپوزیشن گروپوں کے زیر کنٹرول علاقوں پر کاری ضربیں لگانے کا اعتراف کیا ہے۔

شام کے سرکاری نیوز چینل نے حلب میں مرکزی محاذوں پر بشار کی افواج اور ان کے حلیفوں کی وسیع پیمانے پر تعیناتی کا ذکر کیا ہے جس کا مقصد بڑے زمینی حملے کی تیاری ہے۔

اس سے قبل روسی ذمے داران نے روسی روزنامے "ایزوستیا" کو بتایا تھا کہ حلب کا معرکہ آئندہ چند روز یا ہوسکتا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران شروع ہوسکتا ہے۔

ادھر روسی ایوان صدر کرملن نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ حلب شہر میں مختلف اہداف پر روسی فضائی حملے روک دینے کا سلسلہ ابھی جاری و ساری ہے۔

روس نے منگل کے روز شام کے دیگر علاقوں میں اپوزیشن گروپوں کے جنگجوؤں کے خلاف راکٹ حملے کیے تھے۔ اس دوران پہلی مرتبہ لڑائی میں روس کے واحد طیارہ بردار جہاز کا استعمال کیا گیا۔