.

’موصل میں داعش شکست خوردگی کا شکار ہوچکی‘

عراقی فوج کے ایک گم نام مخبر کی ڈائری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمالی شہر موصل میں فوج، پولیس اور اتحادی فوج کی داعش کے خلاف جنگ میں پیش قدمی جاری ہے۔ دوسری جانب موصل سے عراقی فوج کے ایک گم نام مخبر کی طرف سے جو اطلاعات فراہم کی جا رہی ہیں ان میں بتایا گیا ہے کہ داعش تنظیم بدترین شکست خوردگی کا شکار دکھائی دیتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق موصل سے ایک مقامی شہری جن کا براہ راست داعش سےبھی رابطہ ہے مگر وہ داعش کے رکن نہیں۔ وہ دوسری طرف عراقی فوج کے ساتھ رابطے میں ہیں اور تنظیم کے اندر کی معلومات فوج تک پہنچا رہے ہیں۔ سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر عراقی فوج نے اپنے اس مخبر کی شناخت خفیہ رکھی ہے۔

اپنے ایک تازہ مراسلے میں عراقی فوج کے مخبر کا کہنا ہے کہ داعش اندر سے بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ موصل میں کئی اطراف سے فورسز کی پیش قدمی کے نتیجے میں داعشی جنگجوؤں کے اعصاب اکڑ گئے ہیں اور ان کی سانسیں اکھڑنے لگی ہیں۔

موصل میں داعش کے اندر کی خبریں دینے والے عراقی شہری کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے موصل کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے داعشی خلیفہ ابو بکر البغدادی نے اپنی نقل وحرکت محدود کردی ہے۔ البغدادی کا رنگ تبدیل ہوچکا ہے۔

ایک خفیہ مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ البغدادی خود بھی زمین دوز بنکروں میں رہتا ہے۔ جنگجوؤں نے موصل کے گلی محلوں کے اندر سرنگیں کھود رکھی ہیں جو اندر سے ایک دورے سے مربوط ہیں۔ تمام جنگجو کمانڈر اور البغدادی بارودی جیکٹ پہن کر سوتے ہیں تاکہ کسی بھی وقت اچانک گرفتاری سے بچنے کے لیے وہ خود کو دھماکے سے اڑا سکیں۔

خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق موصل کے اندر سے ملنے والی خبروں میں داعش کی جنگی حکمت عملی، جنگجوؤں پر بڑھتے دباؤ اور عراقی، کرد اور امریکی فوج کی پیش قدمی کی تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔

داعش کے گڑھ سمجھے جانے والے اہم مقامات کی نشاندہی کے بعد انہیں فائرنگ سے نشانہ بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

خفیہ مراسلہ نگار کا کہنا ہے کہ داعشی جنگجو کسی بھی شخص کو مخبری کے شبے یا فرار کی کوشش کے دوران پکڑ کر موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ اس لیے لوگ مخبری کرنے یا شہر چھوڑنے سےگریز برتے ہیں۔

ایک مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ موصل کا محاصرہ شدت اختیار کرنے کے بعد جنگجوؤں کی زیادہ تعداد البغدادی کے قریب رہنے کو ترجیح دینے لگی ہے تاکہ البغداد کو کسی بھی کارروائی میں بچایا جاسکے۔

مخبر کا کہنا ہے کہ البغدادی پہلے عام لوگوں میں گھل مل جاتا تھا اور لوگوں سے گپ شپ کرتا اور ان سے ہنسی مزاح بھی کرلیتا تھا مگر اب وہ مکمل طور پر گم سم اور لوگوں سے دور رہتا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارےنے عراقی فوج کو موصل کے اندر کی خبریں دینے والے شخص کی نشاندہی کی ہے مگر اس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

گرفتار داعشیوں نے کیا بتایا؟

گذشتہ ہفتے کرد فورسز نے موصل میں پیش قدمی کرتے ہوئے داعش کے دو جنگجوؤں کو زندہ گرفتار کرلیا تھا۔

گرفتار ہونے والے 21 سالہ علی قحطان کا کہنا تھا کہ اس نے پانچ کرد فوجیوں کو گولیاں مار کر قتل کیا جس کےبعد اسے گرفتار کرلیا گیا تھا۔ اس نے کہا کہ ٹریننگ کے دوران ان کے سینیر کمانڈرا نہیں مخالفین کے ساتھ انتہائی سخت رویہ اپنانے اور ان پر وحشیانہ طریقے سے تشدد کرنے کی تاکید کرتے۔ انہیں پستول سے لے کر مشین گن تک چلانے کی تربیت دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کلاشنکوف، بندوق اور چھریوں کے ذریعے لوگوں کو ذبح کرنے کے طریقے بھی سکھائے جاتے ہیں۔

گرفتار جنگجو قحطان نے بتایا کہ ایک سال قبل ایک مقامی داعشی امیر نے اسے یرغمال بنائے گئے پانچ کرد فوجیوں کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری سونپی۔ اس نے پانچوں کو چھری سے ذبح کیا۔ اس کارروائی کے دوران داعشی امیر پیچھے کھڑا اس کی مکمل نگرانی کرتا رہا۔

داعشی کا کہنا ہے کہ میں نے پانچ کردوں کے قتل کے بعد میں نے محسوس کیا کہ پانچ افراد کو ذبح کرنے کا میرے اوپر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ میں نے خون آلود کپڑے صاف کیے اور رات کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ معمول کے مطابق کھانا کھایا۔

ایک دوسرے گرفتار جنگجو بکر صلاح بکر نے کہا کہ تنظیم کو اپنی جنگ جاری رکھنے کے لیے عراقی جنگجوؤں کی اشد ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ جنگجو نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ البغدادی اب موصل میں نہیں ہوں گے۔ جنگجو نے تسلیم کیا کہ ترکی کی طرف سے راستے بند ہونے کے بعد جنگجوؤں کی داعش میں شمولیت میں بہ تدریج کمی آئی ہے۔