.

ٹرمپ کے دور میں ایران کے ساتھ معاہدہ ختم ہو جائے گا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور امریکا کے درمیان دھمکیوں کا حالیہ تبادلہ اس امر سے خبردار کر رہا ہے کہ منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں نیوکلیئر معاہدہ ختم ہو سکتا ہے۔ تہران کی جانب سے دو ٹوک انداز میں باور کرایا جا رہا ہے کہ کانگریس کی جانب سے ایران کے خلاف پابندیوں میں مزید دس سال کی توسیع کی جانے کی صورت میں مذکورہ معاہدے کو منسوخ کر دیا جائے گا۔

ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای یہ باور کراچکے ہیں کہ انہیں ٹرمپ کے انتخاب اور واشنگٹن میں حکومت کی باگ ڈور ریپبلکنز کے ہاتھوں میں آنے کے نتائج کی کوئی پروا نہیں۔ اس دوران اصلاح پسند بالخصوص ایرانی صدر حسن روحانی نیوکلیئر معاہدے کی منسوخی کے عدم امکان پر اصرار کر رہے ہیں جب کہ سخت گیر ٹولہ معاہدے کی منسوخی اور یورینیم کی افزودگی کے ساتھ ساتھ ایسے دیگر اشتعال انگیز اقدامات پر زور دے رہا ہے جن سے یہ معاہدہ دھول بن کر اُڑ جائے۔

مغربی طاقتیں ایران پر الزام عائد کرتی ہیں کہ وہ شقوں کی مکمل صورت میں پاسداری نہ کر کے معاہدے کی روح کو پامال کر رہا ہے۔ بالخصوص متنازعہ میزائل تجربات جو سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی خلاف ورزی ہیں اور اس کے علاوہ خطے میں ایرانی مداخلتیں اور دہشت گردی کی سپورٹ شامل ہیں۔

معاہدے کی منسوخی یا ترمیم ؟

دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ نو منتخب صدر ٹرمپ کی آئندہ انتظامیہ ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے کو منسوخ ہر گز نہیں کرے گی اس لیے کہ بین الاقوامی سطح کے اس معاہدے پر ایران کے علاوہ چھ بڑے ممالک کے دستخط ہیں۔ تاہم ٹرمپ انتظامیہ حتمی طور پر معاہدے میں ترمیم کرے گی جو اس کی روح کی مناسبت سے تہران کو نیوکلیئر ہتھیاروں کی تیاری اور علاقائی مداخلت سے روک سکے۔ علاوہ ازیں ایسا طریقہ کار بھی وضع کیا جائے گا جس کے ذریعے ایران کے لیے آزاد کی جانے والی رقم شام اور یمن میں دہشت گردی کی سپورٹ اور خطے کے ممالک میں ایران نواز ملیشیاؤں کے استعمال میں نہ لائی جا سکے۔

فوجی کارروائی کا آپشن

امریکی ذمے داران ایران کی جانب سے نیوکلیئر معاہدے کی تمام شقوں کی پاسداری نہ کرنے کی صورت میں.. تہران کے خلاف فوجی آپشن کے استعمال کی بات کر چکے ہیں۔ مذکورہ ذمے داران کے بیانوں میں سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں فوجی آپشن سمیت تمام تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ایران نیوکلیئر معاہدے کے بعد سے اب تک 4 مرتبہ بیلسٹک میزائلوں کے تجربات کر چکا ہے۔

ایک اسرائیلی سکیورٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے سب سے پہلی فوجی کارروائی میں ایران پر حملہ کر کے اس کے نیوکلیئر ری ایکٹروں اور متنازعہ بیلسٹک میزائلوں کے اڈوں کو بم باری کا نشانہ بنایا جائے گا۔

اصلاح پسندوں کا موقف

ایران میں اصلاح پسندوں کا مطالبہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے کے حوالے سے براہ راست بات چیت کا دروازہ کھولا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ جنگ سے بچا جا سکے جس میں حتمی نقصان ایران کا ہی ہونا ہے۔ صدر حسن روحانی کے قریب سمجھے جانے والے سابق نیوکلیئر مذاکرات کار حسین موسویان نے روزنامہ "ايران" میں تحریر کیے جانے والے ایک مضمون میں کہا ہے کہ اوباما نے نیوکلیئر معاہدے کے ذریعے ایران کے سامنے علاقائی طاقت بن جانے کے لیے راستہ کھول دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مہارت کے ساتھ نمٹا جائے تاکہ اوباما انتظامیہ کی جانب سے حاصل ہونے والی اس بڑی کامیابی کو برقرار رکھا جا سکے۔

ایرانی سخت گیروں کا آپشن

ایسے وقت میں جب کہ اصلاح پسندوں کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ براہ راست مکالمے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے.. دوسری جانب ایران میں سخت گیروں کا ٹولہ نیوکلیئر معاہدے کے ممکنہ خاتمے کا خیر مقدم کر رہا ہے۔ اس لیے کہ مذکورہ ٹولے کے خیال میں اس معاہدے کے نتیجے میں مغرب کو بہت بڑی رعایتیں دی گئی ہیں ، ایران کے اسلحے کے پروگرام پر لا محدود پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور ملک میں امریکی اور مغربی رسوخ کی راہ ہموار کی گئی ہے۔

اس سے قبل ایرانی ذرائع ابلاغ کےادارے " کیہان" میں مرشد اعلی علی خامنہ ای کے مندوب حسین شریعتمداری نے کہا تھا کہ "بہتر ہے کہ امریکی منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آنے سے پہلے ہم نیوکلیئر معاہدے کو پھاڑ ڈالیں"۔

میزائل ، دہشت گردی اور انسانی حقوق

ایران کے نیوکلیئر معاہدے کے حوالے سے اختلافات کے علاوہ تین دیگر اختلافی معاملات ہیں جن کے نتیجہ امریکی ایرانی تصادم کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ ان میں میزائل کا معاملہ ، دہشت گردی کے لیے تہران کی سپورٹ ایرانی حکام کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔

اس سلسلے میں امریکا اور یورپی یونین کا یکساں موقف ہے۔ یورپی یونین کے 28 رکن ممالک کے وزراء خارجہ نے پیر کے روز برسلز میں اجلاس کے دوران ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بیلسٹک میزائلوں کے تجربات کا سلسلہ روک دے۔

ادھر امریکی کانگریس نے ایران پر پابندیوں میں دس سال کی توسیع کا قانون 419 ووٹوں کی اکثریت کے ساتھ منظور کر لیا۔

انسانی حقوق کے حوالے سے اقوام متحدہ کی ذیلی کمیٹی نے منگل 15 نومبر کو کینیڈا کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد مںظور کرلی جس کے حق میں 85 ووٹ آئے تھے۔ قرارداد میں ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں بالخصوص تہران کی جانب سے سزائے موت پر بڑے پیمانے پر عمل درامد اور خواتین اور اقلیتوں کے خلاف امتیازی پالیسی کی سخت مذمت کی گئی۔

امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے رواں سال متعدد قرار دادیں جاری کی گئیں جن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ، تشدد ، آزادی رائے کے خلاف کریک ڈاؤن اور سزائے موت کا سلسلہ جاری رکھنے میں ملوث ایرانی شخصیات اور اداروں کے خلاف پابندیاں عائد کی گئیں۔

امریکی ایوان نمائندگان نے منگل کے روز ایک قرار داد منظور کی جس میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے پر شامی حکومت اور اس کے حامیوں روس اور ایران پر پابندیاں عائد کی گئیں۔

علاوہ ازیں خطے میں مداخلت اور شام ، یمن ، عراق اور دیگر علاقائی ممالک میں دہشت گردی کی سپورٹ کے سبب امریکا نے ایران کے خلاف یک طرفہ پابندیاں بھی عائد کیں۔

اس تمام پیش رفت کی روشنی میں مبصرین کا خیال ہے کہ 20 جنوری 2017 کو وہائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے کرسی صدارت سنبھالنے کے بعد امریکا ایران تصادم کے ایک نئے باب کا آغاز ہونے والا ہے۔