.

مصر: اشتہاریوں کو پناہ دینے کا الزام،صحافیوں کو قید اور جرمانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک فوجی عدالت نے تین سرکردہ صحافیوں اور جرنلسٹ یونین کے عہدیداروں کو اشتہاری ملزمان کو پناہ دینے کے الزام میں قید اور جرمانوں کی سزاؤں کا حکم دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق قصرالنیل کی ایک مقامی فوجی عدالت نے جرنلسٹ یونین کے سربراہ یحییٰ قلاش، سیکٹری جنرل جمال عبدالرحیم اور سیکٹری خالد البلشی کو سیکیورٹی اداروں کو مطلوب افراد کو پریس کلب کی عمارت میں پناہ دینے کے الزام میں دو دو سال قید اور دس ہزار پاؤنڈ جرمانہ کی سزا کا حکم دیا ہے۔

خیال رہے کہ مصری پراسیکیوٹر جنرل نے تینوں مصری صحافیوں کا کیس عدالت کو منتقل کرتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی سفارش کی تھی۔ ان پرالزام عاید کیا گیا تھا کہ وہ متعدد اشتہاریوں کو پناہ دینے میں ملوث رہے ہیں۔ رواں سال مئی میں جرنلسٹ یونین کے دفتر سے سیکیورٹی اداروں کو مطلوب دو افراد عمرو بدر اور محمود السقاء کو حراست میں لیا گیا تھا۔ دونوں کی گرفتاری عدالت کے حکم پرعمل میں لائی گئی تھی۔

دوسری جانب مصر کی جنرنلسٹ کونسل نے تنظیم کے عہدیداروں پرعاید الزامات کی صحت سے انکار کیا ہے۔جرنلسٹ یونین کے وکیل سید ابو زید نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تینوں صحافی کارکنوں کے خلاف بنائے گئے مقدمات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ ان پر عاید الزمات باطل ہیں۔ کوئی ایک الزام بھی ان پر ثابت نہیں ہوسکا ہے۔

وکیل کا کہنا تھا کہ دستور کی دفعہ 79 میں صحافتی یونین کو صحافی کارکنوں کی پیشہ وارانہ دفاع اور معاونت کا حق دیا گیا ہے۔ اسی طرح دستور کی دفعہ 35میں جرنلسٹ یونین کو اپنے ساتھیوں کے کسی قسم کے کیس میں مداخلت کرنے اور ان کی ہرممکن قانونی مدد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔