.

موصل آپریشن: نمرود شہر کے اطراف میں عراقی پرچم لہرا دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمالی شہر موصل میں شدت پسند گروپ داعش کے خلاف عراقی اور اتحادی ممالک کی فوجوں کا مشترکہ آپریشن جاری ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق عراقی فوج نے نمرود شہر کو داعش سے چھڑانے کے بعد اب اس کے اطراف کے کئی قصبات بھی داعش سے واپس لے کران پر عراقی پرچم لہرا دیے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق موصل کے مشترکہ آپریشن اور ’’نینویٰ ہم آ رہے ہیں‘ نامی فوجی کارروائی کے ڈپٹی کمانڈر جنرل امیر رشید یار اللہ نے بتایا کہ عراقی فوج کے بریگیڈ نو کے جوانوں نے کارروائی کرتے ہوئے نمرود شہر کے اطراف کے کئی مقامات داعش سے چھڑا لیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شمالی نمرود سے متصل اہم قصبے قرۃ شور اور کھریز کو داعش سے چھڑانے کے بعد ان پر عراقی پرچم لہرا دیے ہیں۔ جنرل رشید یاراللہ نے بتایا کہ تازہ لڑائی میں داعش کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچایا گیا ہے۔

ادھر ’’العربیہ‘‘ کے نامہ نگار کے مراسلے کے مطابق نمرود کے اطراف کے کئی مقامات کو داعش سے آزاد کرانے کا یہ مطلب ہرگز یہ نہیں کہ شہر اطراف کو داعش سے مکمل طور پر پاک کرلیا گیا ہے۔ مقامی قبائلی ذرائع کا کہنا ہے کہ نمرود کے آس پاس کے کئی دیہات پر اب بھی داعشی جنگجوؤں کا قبضہ ہے اور وہ بدستور لڑائی لڑ رہے ہیں۔

قبل ازیں جوائنٹ آپریشنل فورسز کے ڈپٹی کمانڈر جنرل یاراللہ نے کہا تھا کہ عراقی اور اس کی اتحادی فوسز مختلف محاذوں پر موصل شہر کی طرف پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فوج ساحل سمندر کی بائیں جانب سے المحاربین کالونی کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے۔

ساحل کی طرف سے شہر میں داخلے کی کوشش

عراقی فوج کی طرف سے جاری کردہ بیانات میں بتایا گیا ہے کہ موصل کی بائیں سمت میں ساحل سمندر کی جانب سے فورسزنے پیش قدمی کی کوشش کی ہے۔ شہر کے جنوب مغربی محاذ پر بھی فیڈرل پولیس نے عمارتوں کی تلاشی کا عمل شروع کردیا ہے۔ پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ داعش کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی تلاش اور انہیں ناکارہ بنا رہے ہیں۔

شہر کی مشرقی سمت میں ساحل کی بائیں جانب البکر، الذھبیہ، الخضراء اور القادسیہ کے مقامات سے بھی فوج نے پیش قدمی کی ہے اور بعض مقامات کو داعش سے چھڑالیا گیا ہے۔

شہر کے شمال میں فوج کے بریگیڈ 16 کے اہلکاروں نے داعش سے چھڑائے گئے علاقوں میں بارودی سرنگوں کی صفائی قریبا مکمل کرلی ہے۔ مغربی محاذ پر عراقی فوج کی معاون شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی تلعفر ہوائی اڈے کی صفائی کے بعد ہوائی اڈے کے شمالی اطراف میں واقع مقامات کی تلاشی میں مصروف عمل ہے۔

داعش کی خود کش حملوں کی دھمکی

شمالی موصل کی ایک اہم کالونی کو داعش سے چھڑانے کے بعد انسداد دہشت گردی فورس پیش قدمی کررہی ہے۔ جمعہ کے روز داعش کے زیرتسلط علاقوں کی مساجد سے دہشت گردوں کی طرف سے خود کش حملوں کی دھمکیاں دی گئیں۔

لاؤڈ اسپیکروں پر اعلانات کیے گئے کہ داعش کے ماہر نشانہ باز مساجد کے میناروں سے فوج کو نشانہ بنائیں گے۔

عراقی فوج کے زیرکنٹرول شاہراؤں کے قریب زوردار دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔ عراقی فوج کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ فوج نے جب ایک مکان کا محاصرہ کیا تو اس میں موجود داعشی دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ فوجی افسر نے بتایا کہ داعشی جنگجوؤں کی نقل وحرکت پر نظر رکھنے کے لیے ڈرون طیاروں سے بھی مدد لی جا رہی ہے۔

قبل ازیں داعش کی جانب سے انٹرنیٹ پر جاری کیےگئے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ موصل میں خود کش بمباروں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے۔ ایک داعشی جنگجو کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آپ کے لیے خوش خبری ہے کہ موصل میں فدائی حملہ اور بھائیوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے‘۔ عراقی فوج کے اندازے کے مطابق موصل میں پانچ سے چھ ہزار داعشی جنگجو موجود ہیں۔