.

"ولایتِ فقیہ" کی داعش تنظیم سے مماثلت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھر میں شدت پسند تنظیموں کے مقاصد اور مقامات مختلف ہونے کے باوجود ان جماعتوں کے درمیان دوسروں کو موت کے گھاٹ اتارنے سے متعلق سوچ میں زیادہ فرق نہیں پایا جاتا ہے۔

ایک لبنانی ٹی وی چینل "الجدید" پر نشر ہونے والے پروگرام میں ایک لبنانی باپ کا انٹرویو نشر ہوا جس کا بیٹا شام کے شہر حلب میں مارا گیا تھا۔ جب مذکورہ شخص سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے بیٹے کے شام جانے پر کس وجہ سے آمادہ ہو گیا تو اس نےجواب دیا کہ "ولایت فقیہ کی وجہ سے جس کے سرخیل علی خامنہ ای ہیں"۔ میزبان سے اس شخص سے پوچھا کہ " تم نے اپنے بیٹے کو شام میں کس چیز کے دفاع کے لیے کھو دیا ؟ " ... اس شخص کا جواب تھا کہ "اپنے عقیدے اور اپنے وجود یعنی ولایت فقیہ جناب خامنہ ای کے دفاع میں"۔

"ولایتِ فقیہ" وہ اصطلاح ہے جس کو ایران خمینی کے انقلاب کے وقت سے استعمال کر رہا ہے۔ لبنانی تنظیم حزب اللہ نے اسی کے نام پر لبنانی نوجوانوں کو شام کی جنگ میں جھونک ڈالا۔

یہ فرقہ واریت اور اندھی وفاداری جو حزب اللہ اپنے پیروکاروں میں بھر رہی ہے اس طرز فکر سے ملتی جلتی ہے جو داعش تنظیم کا سربراہ ابوبکر البغدادی اپنے پیروکاروں کے ذہنوں میں راسخ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سعودیوں کو وہ جرم اچھی طرح سے یاد ہے جس نے ان کے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ جہاں داعش کے سربراہ سے بیعت کو ثابت کرنے کے لیے ایک سعودی نوجوان نے اپنے چچا کے بیٹے کو موت کی نیند سلا دیا تھا۔

ان واقعات میں ایران میں ولایت فقیہ کے پیروکار یا داعش تنظیم کے سربراہ کے وفادار سب برابر ہیں۔ یہ لوگ اپنے عزیز و اقارب کے خلاف بھی شدت پسندی کی تمام تر اصناف پر عمل پیرا ہوتے ہیں جن میں قتل ، تخریب کاری اور ایذا رسانی شامل ہے۔