.

امریکی دھمکیوں کے بعد ایران کی بھاری پانی سے خلاصی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران آئندہ دو روز کے دوران تقریبا 11 میٹرک ٹن بھاری پانی کو ملک سے باہر نکالنے کا آغاز کر دے گا۔ اس پانی کو وہ اپنے نیوکلیئر پروگرام میں استعمال کر رہا تھا۔ امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" کے مطابق ایران کے اس اقدام کا مقصد نیوکلیئر معاہدے کے حوالے سے امریکا ، "5+1" گروپ کے دیگر فریقوں اور ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ کسی بھی نئے بحران سے اجتناب کرنا ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ IAEA کے ڈائریکٹر جنرل یوکیو امانو نے گزشتہ ہفتے ایران کی جانب سے بھاری پانی کے ذخیرے کی مقررہ حد 130 میٹرک ٹن سے دوسری مرتبہ تجاوز کرنے پر اپنے اندیشوں کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اس خلاف ورزی کے بار بار دہرائے جانے سے جولائی 2015 میں طے پائے جانے والے نیوکلیئر معاہدے پر مکمل عمل درامد کے حوالے سے اعتماد سبوتاژ ہوسکتا ہے۔

غالب گمان ہے کہ ایران کا بھاری پانی بین الاقوامی منڈی میں فروخت کے واسطے عمان منتقل کیا جائے گا۔ اس طرح ایران کے بھاری پانی کا ذخیرہ کم ہو کر 120 میٹرک ٹن ہو جائے گا۔