.

تل عفر میں چڑھائی کے لیے الحشد الشعبی سلیمانی کے حکم کی منتظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمالی شہر موصل میں داعش کے خلاف جاری فوجی آپریشن میں شیعہ عسکری گروپوں کی شمولیت اورایرانی مداخلت پرانتباہ کے باوجود یہ اطلاعات ملی ہیں کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم تنظیم القدس فورس کے سربراہ جنرل سلیمانی اب بھی شیعہ ملیشیاؤں کی قیادت کررہے ہیں۔

العربیہ کو ملنے والے ذرائع سے پتا چلا ہے کہ ’’عصائب اھل الحق‘‘ نامی ملیشیا کا کہنا ہے کہ موصل کے نواحی علاقے ’تل عفر‘ میں چڑھائی کے لیے الحشد الشعبی ملیشیا کو ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے احکامات کا انتظار ہے۔

’عصائب اھل الحق‘ کے ترجمان جواد الطیباوی نے کہا کہ ترکی کی جانب سےتل عفر میں حشد الشعبی ملیشیا کے جنگجوؤں کے داخلے کو مسترد کیے جانے کی کوئی حیثیت نہیں۔ شیعہ ملیشیا کو تل عفر شہر میں داخل ہونے اور داعش کے خلاف لڑائی سے کوئی نہیں روک سکتا۔

ادھر دوسری پیش رفت میں عراقی فوج نے موصل کے مشرقی سمت میں مزید پیش قدمی کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق عراقی فوج نے حلب کی مشرقی کالونی الزھور کا محاصرہ کرلیا ہے۔ یہ کالونی حلب کے مرکز سے آٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

عسکری ذرائع کے مطابق فوج کے محاصرے کے بعد الزھور کالونی سے ہزاروں کی تعداد میں شہری سفید پرچم اٹھائے محفوظ مقامات کی طرف نکل رہے ہیں۔ داعشی جنگجوؤں نے نے بھی پوزیشنیں سنھبال لی ہیں۔ خود کش بمباروں کے ذریعے عراقی فوج کی پیش قدمی روکنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔