.

حلب کے مشرقی حصے پر بمباری ،ماں بچے سمیت 21 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی شہر حلب کے مشرقی حصے پر فضائی بمباری اور گولہ باری سے گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران ایک ماں اور اس کے بچے سمیت اکیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے سوموار کو اطلاع دی ہے کہ مشرقی حلب کے ایک علاقے مساکن حانانو میں ایک مکان پر بم گرا ہے جس سے ایک خاتون اور اس کا بچہ مارا گیا ہے۔قبل ازیں اسی علاقے میں رات سے شدید گولہ باری اور فضائی حملوں میں انیس افراد مارے گئے ہیں۔

مشرقی حلب کے ارد گرد فتح الشام کے حمایت یافتہ باغی گروپوں اور شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کے درمیان خونریز جھڑپیں جاری ہیں اور وہ ایک دوسرے پر گولہ باری کررہے ہیں۔شامی کارکنان کے مطابق شامی فوج یا روس کے لڑاکا طیارے حلب کے علاقوں فردوس اور دیر حفیر پر فضائی بمباری کررہے ہیں۔

مشرقی حلب میں روس کے فضائی حملوں کے بعد صورت حال انتہائی ناگفتہ بہ ہوچکی ہے،اسپتالوں کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہوچکا ہے اور اس وقت کوئی بھی اسپتال مریضوں کو علاج معالجے کی سہولتیں مہیا کرنے کے قابل نہیں رہا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق مشرقی حلب میں مقیم قریباً ڈھائی لاکھ افراد کو علاج معالجے کی خدمات مہیا کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

عالمی ادارہ صحت سمیت اقوام متحدہ کے تحت امدادی اداروں کو جولائی کے بعد سے مشرقی حلب میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔شامی فوج اور اس کے اتحادیوں نے اُسی مہینے میں مشرقی حلب کی جانب جانے والی اہم شاہراہ کاستیلو روڈ پر قبضہ کرلیا تھا اور شہر کے اس حصے کی مکمل ناکا بندی کردی تھی۔اس وجہ سے گذشتہ چار ماہ سے باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی حلب میں محصور شامیوں کو ادویہ ،خوراک اور دوسرا امدادی سامان نہیں پہنچایا جاسکا ہے۔

درایں اثناء امریکی صدر براک اوباما نے اعتراف کیا ہے کہ ''شام میں جاری بحران کچھ وقت کے لیے برقرار رہ سکتا ہے''۔ انھوں نے لیما میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ '' میں شام میں مختصر مدت کے امکانات کے حوالے سے کوئی زیادہ پُر امید نہیں ہوں''۔