.

قہوہ بیچنے والے نے دو سال قبل ارب پتی بننے کا جشن منایا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

علی الشلّی یا (الشلّہ).. یہ وہ نام ہے جس کے گرد شام میں کئی روز سے منظر عام پر آنے والا اسکینڈل گردش کر رہا ہے۔ شام بالخصوص حلب میں مصروف عمل ایک عرب سیٹلائٹ چینل کے نمائندے نے اس عسکری "سرغنے" کا نام لیا تھا جو اسلحے کے زور پر حلب کے اہلیان کے گھروں میں چوری کر رہا ہے۔ معاملہ اس حد تک سنگین ہوچکا ہے کہ جن رہائشی عمارتوں کے مکینوں کو زبردستی نقل مکانی پر مجبور کیا گیا ان عمارتوں کے چوکی داروں کو ہلاک کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا۔

مذکورہ نمائندے کو بشار حکومت کے ماتحت اُن حکام اور شخصیات کا نام لینے پر قتل کی دھمکیوں کا سامنا ہے جو حلب کے شہریوں کے گھروں میں چوری کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

علی الشلی درحقیقت بشار الاسد کی فوج کے ایک کرنل سہیل حسن کے ماتحت عسکری گروپوں کا کمانڈر ہے۔ فیس بک پر علی الشلی کے پیچ سے اس امر کی تصدیق ہوتی ہے اور الشلی کی سہیل حسن کے ساتھ تصاویر بھی انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔

علی الشلی کا نام پہلی مرتبہ سامنے نہیں آیا ہے۔ اس سے قبل شامی اپوزیشن کی ایک ویب سائٹ نے 16 فروری 2016 کو اپنی ایک رپورٹ میں علی الشلی کا ذکر کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق "وہ شام کے صوبے حماہ میں عین الکروم نامی گاؤں سے تعلق رکھنے والا نوجوان ہے جس کی عمر 30 سے 40 سال کے درمیان ہے۔ سائیکل پر قہوہ بیچنے والا الشلی حماہ میں ایک سب سے بڑے ڈیتھ اسکواڈ کا کمانڈر بن چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق وہ وار لارڈ میں سے ہے"۔

خبروں سے متعلق ویب سائٹ ایشیا نیوز کے مطابق علی الشلی النصرہ فرنٹ کے خلاف لڑائی میں شامل ایک گروپ کا کمانڈر ہے جو خود کو لڑائی میں مصروف ظاہر کر کے اغوا ، لوٹ مار ، چوری ، بلیک میلنگ اور گاڑیوں کے چھینے جانے کی کارروائیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔

حلب میں بشار کی فوج کے زیر کنٹرول آنے والے علاقوں پر کرنل سہیل حسن کی فورس قبضہ جما لیتی ہے۔ یہ فورس شہر کے اہلیان کو کوچ کرجانے پر مجبور کرتی ہے اور انکار کی صورت میں شہر کے باسیوں کو قتل کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتی۔ شہریوں کو کوچ کروانے کا مقصد اپنی چوری کی کارروائیوں کے لیے راستہ صاف کرنا ہوتا ہے۔ علی الشلی کے عسکری گروپ میں 2000 ارکان شامل ہیں۔ اس نے اپنے گروپ کے ہمراہ چوری کی کارروائیوں کے ذریعے حلب کی معیشت کا مکمل طور پر ستیاناس کر ڈالا ہے۔

مذکورہ اسکینڈل جب بشار الاسد کے ہمنوا ایک چینل کے نمائندے کے ہاتھ آ گیا تو اس کے بعد شامی حکومت کے حامی بھی چوری میں ملوث عناصر کے بارے میں معلومات فراہم کرنے سے نہیں رکے۔ بشار کی فوج کے زیر انتظام ملیشیاؤں کے ایک کمانڈر محمد جابر نے ٹی وی پر اپنے براہ راست بیان میں اعتراف کیا کہ اس کے زیر قیادت ملیشیا "صقور الصحراء" نے حلب میں چوری کی کارروائیاں کی ہیں۔

بشار الاسد حکومت کی ہمنوا ایک ویب سائٹ "وینیکس" کے مطابق علی الشلی نے دو سال قبل خود کے ارب پتی بننے پر جشن منایا تھا.. اور پوری ریاست کی سکیورٹی فورسز بالخصوص علی الشلی کے صوبے یا شہر کی پولیس اس کے یا اس کے 2000 ارکان کے سامنے پر مارنے کی جرات بھی نہیں کر سکتی۔

یاد رہے کہ علی الشلی اس سے قبل حلب صوبے کے اطراف ایک عسکری چیک پوسٹ "السفیرہ" پر سرگرم رہا۔ یہاں وہ گزرنے والوں کو راستہ عبور کرنے کی اجازت کے مقابل بھتے کی ادائیگی پر مجبور کیا کرتا تھا۔

شامی حکومت کی فوج کے کرنل سہیل الحسن کے ساتھ علی الشلی کی تصاویر بشار حکومت کے عسکری ادارے سے الشلی کی قربت اور تابع داری ظاہر کرتی ہیں