.

عمرے کے سفر کے دوران مصری صدر کو ہلاک کرنے کا منصوبہ تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں "سپریم اسٹیٹ سکیورٹی پراسیکیوشن" نے 292 ملزمان کو فوجی عدالت میں پیش کر دیا ہے۔ ان افراد پر دہشت گرد کارروائیوں بالخصوص مصری صدر عبدالفتاح السیسی کو ہلاک کرنے کی دو کوششوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ مذکورہ دو کوششوں میں سے ایک کوشش بیرون ملک اس وقت کی گئی جب السیسی عمرے کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ میں تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کا تعلق داعش کی ہمنوا ایک تنظیم "ولایت سیناء" سے ہے۔

ان افراد نے جن شخصیات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی اس فہرست میں نمایاں ترین نام مصری صدر عبدالفتاح السیسی کا تھا۔ تحقیقات کے مطابق مذکورہ گروپ نے دو مرتبہ صدر کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا جن میں ایک مرتبہ اندرون اور ایک مرتبہ بیرون ملک تھا۔

اس تنظیم کے ایک ذیلی گروپ نے اگست 2014 میں السیسی کے عمرے کی ادائیگی کے واسطے مکہ مکرمہ میں موجودگی کے دوران انہیں ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس مقصد کے لیے ملزمان نے فلک بوس کلاک ٹاور میں اپنے کام کرنے سے فائدہ اٹھایا اور "سوئس اوٹِل" میں دھماکا خیز مواد داخل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ مصری صدر کے بارے میں خیال تھا کہ وہ مذکورہ ہوٹل میں ہی قیام کریں گے۔

ملزمان کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ ان میں سے کسی ایک کی بیوی کو خودکش حملے کے لیے استعمال کیا جائے گا کیوں کہ خواتین کی زیادہ تفصیل سے تلاشی نہیں لی جاتی ہے۔ تاہم السیسی عمرے کی ادائیگی کے دوران مذکورہ ہوٹل میں نہیں آئے۔

اس سلسلے میں دوسری کوشش میں مصری پولیس سے علاحدہ ہوجانے والے افسران کے ایک گروپ کو عمل درامد کرنا تھا۔ مصری استغاثہ کی تحقیقات کے مطابق مذکورہ افراد کا منصوبہ یہ تھا کہ السیسی کی سواری کے شاہراہ عام پر گزرنے کے وقت مصری صدر کو نشانہ بنایا جائے۔

گرفتار ہونے والے افراد پر الزامات کی طویل فہرست ہے۔ ان میں پارلیمنٹ کے انتخابات کے دوران شمالی سیناء کے شہر العریش میں عدالت کے 3 ججوں کی ہلاکت اور صوبے میں فوج اور پولیس کے خلاف حملے شامل ہیں۔