.

لبنان : بشار کی حامی نئی دروزی ملیشیا "توحید بریگیڈز"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں دروزی فرقے سے تعلق رکھنے والے ایک سابق وزیر وئام وہاب نے اتوار کے روز " توحید بریگیڈز" کے نام سے اپنی خصوصی ملیشیا کا اعلان کر دیا۔ یہ اعلان مذکورہ ملیشیا کی عسکری پریڈ کے دوران سامنے آیا۔ اس موقع پر وئام وہاب نے اپنے خطاب کے دوران شامی صدر بشار الاسد کے لیے اپنی مطلق حمایت کا اظہار کیا اور دروزی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

وئام نے تقریبا ایک ماہ قبل اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی ملیشیا متعارف کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یہ بات بالکل واضح ہے کہ لبنانی رکن پارلیمنٹ اور دروزی رہ نما ولید جنبلاط "توحید بریگیڈز" کی تشکیل پر راضی نہ تھے۔

وئام وہاب کی جانب سے "حزب اللہ اور بشار" کی حامی ملیشیاؤں کی نمائش شام کے قصبے القصیر میں حزب اللہ کی عسکری پریڈ کے چند روز بعد سامنے آئی ہے۔ وئام وہاب کا کہنا ہے کہ "یہ بریگیڈز عسکری ، سکیورٹی یا تخریبی نوعیت کے نہیں بلکہ یہ تبدیلی لانے کے لیے ہیں۔ یہ اپنے دفاع اور لبنانی فوج کی سپورٹ کے سوا اسلحے کے استعمال کو مسترد کرتے ہیں"۔

اس موقع شام میں دروزی فرقے سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی ایک بڑی تعداد بسوں میں سوار ہو کر نئی ملیشیا کے متعارف کرائے جانے کی تقریب میں پہنچے تھے۔ عربی ویب سائٹ "السوريہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق لبنان آنے والے تمام قافلوں کے شام سے نکلتے ہوئے کسی قسم کے دستاویزات نہیں دیکھے گئے اور اسی طرح لبنان میں داخلے کے وقت بھی کسی قسم کی روک ٹوک یا پوچھ گچھ نہیں کی گئی.. جب کہ لبنانی حکومت دیگر شامیوں کے داخلے پر سخت اقدامات اور پابندیاں عائد کرتی ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق پریڈ میں شرکت کے لیے آنے والے تمام شامیوں کی آمد و رفت کے اخراجات وئام وہاب نے برداشت کیے۔ اس کے علاوہ شام سے آنے والے ہر شخص کو سفر کے الاؤنس کے طور پر 100 ڈالر بھی دیے گئے۔

دوسری جانب شام میں دروزی حلقوں کی بڑی تعداد نے اپنے فرقے کے نوجوانوں کے شام سے لبنان جانے کی پرزور مذمت کی ہے۔ السوریہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فرقے کی تمام سرکاری اور مذہبی تنظیموں نے وئام وہاب کی دعوت کو مسترد کردیا اور تقریب میں شرکت کے لیے صرف بشار الاسد کی حکومت کے ہمنوا افراد ہی پہنچے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ "لبنانی حزب التوحید" جس کے سربراہ وئام وہاب ہیں 2013 سے شامی عوام کے خلاف بشار الاسد کی جنگ میں شامی حکومت کے شانہ بشانہ شریک ہے۔