.

بیت المقدس: اذان پر پابندی کے قانون کے پیچھے نیتن یاہو کا بیٹا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مغربی کنارے میں اذان پر پابندی کے اشتعال انگیز قانون نے آخری ہفتے کے دوران نئے زاویے اختیار کر لیے ہیں۔ ان میں اہم ترین پیش رفت یہ ہے کہ مذہبی حلقوں کی جانب سے اس اندیشے کے اظہار پر کہ یہ قانون یہودیت کے شعائر کو بھی نقصان پہنچائے گا.. نیتنیاہو حکومت نے رات گیارہ بجے سے صبح سات بجے تک اذان پر پابندی کی تجویز پیش کی ہے۔

اسرائیلی پارلیمنٹ کے عرب رکن ڈاکٹر احمد طیبی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ وہ دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر مذکورہ قانون مجوزہ موجودہ شکل میں نافذ کیا گیا تو وہ اسرائیلی سپریم کورٹ کا رخ کریں گے کیوں کہ اس کے ذریعے صرف مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ طیبی کے مطابق نیتنیاہو حکومت کے عدالتی مشیر نے اسرائیلی حکومت کا آگاہ کر دیا ہے کہ مذکورہ قانون نہ تو موجودہ شکل میں اور نہ ہی مجوزہ شکل میں نافذ ہوگا کیوں کہ یہ بنیادی قوانین سے متصادم ہے۔

قانون کے پیچھے نیتن یاہو کا بیٹا

ایک اسرائیلی ٹی وی "چینل 10" کے انکشاف نے عبرانی میڈیا کی تمام تر توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اذان پر پابندی کے قانون کے پیچھے درحقیقت نیتن یاہو کے بیٹے کا ہاتھ ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کا بیٹا قیساریا میں نتین یاہو خاندان کے گھر میں اپنے ایک دوست کے ہمراہ موجود تھا کہ اس دوران اس کے غیرملکی دوست کو اذان کی آواز سے الجھن محسوس ہوئی۔ تاہم یہ نیتن یاہو کے خاندان پر عبرانی میڈیا کی نکتہ چینی کا آغاز تھا۔ اسرائیلی کالم نگار اووير طوبول نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن ياہو پر الزام لگایا کہ انہوں نے بھی فرانس میں دائیں بازو کی رہ نما جیسی حرکتیں شروع کر دی ہیں جو ملک میں اسلامی شعائر پر پابندیاں لگانا چاہتی ہیں۔

حساس معاملات میں نیتن یاہو کی اہلیہ کی مداخلت

رواں ہفتے کے دوران اسرائیلی چینل 2 کے ایک پروگرام میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ نیتن یاہو کی اہلیہ سارہ نے ملک میں حساس نوعیت کے ایک سکیورٹی معاملے میں مداخلت جو سکیورٹی کے شعبے میں تقرر سے متعلق تھا۔ اسرائیلی خاتون صحافی ایلانہ دیان کی رپورٹ کے مطابق سارہ نیتن یاہو انتہائی تُند و تیز مزاج کی خاتون ہیں اور ریاست کے سینئر اہل کاروں کی اہانت کے علاوہ ان پر چیختی چلاتی بھی ہیں۔ اس کے جواب میں وزیراعظم نیتنیاہو کے پاس کوئی چارہ نہ تھا اور انہوں نے مذکورہ خاتون صحافی پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ دیان کا تعلق بائیں بازو سے ہے اور وہ دائیں بازو کی حکومت گرانے کے لیے کوشاں ہیں۔ نیتن یاہو کے مطابق خاتون صحافی میڈیا میں اسرائیل ک تصویر مسخ کر کے بائیں بازو کی شدت پسند تنظیموں کی مدد کر رہی ہیں۔

اذان جُزو لا ینفک ہے

دوسری جانب بیت المقدس میں سپریم اسلامک کمیٹی نے اپنے اجلاس میں کہا ہے کہ فلسطینیوں کو اذان کے معاملے میں کوئی حل قبول نہیں ہے۔ بیت المقدس میں فلسطینی اراضی کے مفتی شیخ محمد حسين نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے باور کرایا کہ " اذان اسلامی شعائر کا جزو لا ینفک ہے.. جس کو اس سے پریشانی ہے وہ اس اسلامی سرزمین سے کوچ کر جائے"۔

اسلامی تعمیرات کے ماہر اور مسجد اقصی کے سابق ڈائریکٹر شیخ ناجح بکیرات کا کہنا ہے کہ " اسرائیلی پارلیمنٹ نے گزشتہ برسوں کے دوران مسجد اقصی کو نقصان پہنچانے والے متعدد قوانین بنائے تاہم یہ نیا قانون سب سے خطرناک ہے۔ اس قانون کے ذریعے بیت المقدس میں فلسطینی اسلامی وجود کی روح کو نشانہ بنایا گیا ہے"۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مسجد اقصی کے اطراف کا منظر تبدیل کرنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔