.

فلسطینی کارکن کے خلاف اسرائیلی الزامات، ایمنسٹی کی مذمّت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے منگل کے روز ایک فلسطینی کارکن کے خلاف اسرائیلی الزامات کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں "بے بنیاد" قرار دیا ہے۔

مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں یہودی بستیوں کی آبادی کاری کے خلاف فلسطینی نوجوانوں کی تحریک "Youth Against Settlements" کے بانی عیسی عمرو کو بدھ کے روز اسرائیلی فوجی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ عیسی کے خلاف مختلف نوعیت کے 18 الزمات ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کی ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملزم کے خلاف الزامات کا انبار ہے جن میں ہنگامہ آرائی اور اسرائیلی فوجیوں پر حملوں میں شرکت ، پرتشدد کارروائیوں کا مطالبہ اور سکیورٹی فورسز کے کام میں رکاوٹ ڈالنا شامل ہے۔

مشرق وسطی میں ایمنسٹی تنظیم کی نائب ڈائریکٹر مجدلينا مغربی کے مطابق عیسی عمرو کو مجرم قرار دیے جانے کی صورت میں اسے prisoner of conscience (ضمیر کا قیدی) شمار کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ عالمی برادری تمام یہودی بستیوں کو غیر قانونی شمار کرتے ہوئے آبادی کاری کو امن کے عمل میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دیتی ہے۔

مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں دو لاکھ فلسطینی آباد ہیں اور اسرائیلی فوج کی سخت سکیورٹی میں 500 یہودی آباد کار مقیم ہیں۔

ادھر فلسطینی کارکن عیسی عمرو نے ایک غیرملکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ اس نے قابض اسرائیلی حکام کے خلاف اپنی سرگرمیوں میں کبھی تشدد کا سہارا نہیں لیا۔ عیسی کے مطابق " اس کے خلاف عدالتی کارروائی" دائیں بازو کی اسرائیلی حکومت کا فیصلہ ہے جس کا مقصد اس کے کام کو نشانہ بنانا ہے۔

فلسطینی اراضی ، بیت المقدس اور اسرائیل میں اکتوبر 2015 سے اب تک پر تشدد کارروائیوں میں 240 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ 36 اسرائیلی اور دو امریکی مارے گئے جب کہ اردن ، سوڈان اور اریٹیریا کا ایک ایک باشندہ ہلاک ہوا۔