.

فوج کا بھاری جانی نقصان،بشارالاسد نے نئی ملیشیا تشکیل دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں سنہ 2011ء کے بعد سے جاری جنگ کے دوران باغیوں کے ہاتھوں شام کی سرکاری فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس نقصان کی کمی پوری کرنے کے لیےبشارالاسد نے بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے اجرتی قاتلوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ اب اطلاعات ملی ہیں کہ بشارالاسد نے خصوصی فنڈز سے ایک نئی عسکری ملیشیا تشکیل دی ہے جو حلب اور دوسرے شہروں میں شامی فوج کے شانہ بہ شانہ لڑائی میں حصہ لے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شامی صدر بشارالاسد کی براہ راست فنڈنگ سے تشکیل دی گئی نئی ملیشیا کو "پانچویں چھاپہ مار فورس" کا نام دیاگیا ہے۔ یہ نئی ملیشیا ایک وقت میں قائم کی گئی ہے جب مشرقی حلب اور شام کے دوسرے شہروں میں شامی فوج کو انقلابی فورسز کے ہاتھوں غیر معمولی جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

شامی فوج کی طرف سےجارہ کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ نئی فورس میں شامل ہونے والے جنگجو رضاکارانہ طور پر فوج کے ساتھ ساتھ لڑائی میں حصہ لیں گے۔ انہیں پیش قدمی کے لیے اگلے مورچوں پر تعینات کیا جائے گا۔ اس نئی عسکری تنظیم میں دمشق، حمص، حلب، حماۃ، طرطوس، اللاذقیہ، درعا اور السویداء شہروں سے بشار الاسد کے حامی جنگجو بھرتی کیے جائیں گے۔

ذرائع کےمطابق بشار الاسد نئی ملیشیا میں ان سرکاری ملازمین کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں جو فوج کے محکمے کے سوا دوسرے سرکاری محکموں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایسے سرکاری ملازمین کو ان کی اصل محکمے کی طرف سے تنخواہیں برابر ملتی رہیں گی۔ جنگ میں شمولیت کی خدمت کے عوض بھی ان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

شامی وزارت دفاع کی ویب سائیٹ پر جاری کردہ بیان میں اس امر کی وضاحت نہیں کی گئی کہ آیا نئی فورس میں شامل ہونے والے افراد کی عسکری تربیت کہاں کی جائے گی۔ ایک ذرائع کا کہنا ہے کہ عسکری گروپ میں شامل ہونے والے رضاکاروں کو ماہانہ 200 سے 350 امریکی ڈالر تک معاوضہ ادا کیا جائے گا۔