.

بشار حکومت مشرقی حلب کی تقسیم کے قریب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شہر حلب کے مشرقی حصے پر بشار حکومت کی افواج کی جانب سے شدید بم باری اتوار کو اپنے 12 ویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔

شامی میں انسانی حقوق کے مانیٹرنگ گروپ نے اتوار کے روز بتایا ہے کہ حلب شہر کے مشرقی حصے کے اطراف میں سرکاری فوج اور شامی اپوزیشن گروپوں کے درمیاں شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سرکاری فوج پیش قدمی کرتے ہوئے مشرقی حلب کے سب سے بڑے علاقے مساکن ہنانو پر کنٹرول حاصل کر چکی ہے۔ یہ وہ ہی علاقہ ہے جس پر شامی اپوزیشن کے گروپوں نے 2012 میں سب سے پہلے کنٹرول حاصل کیا تھا۔ مذکورہ علاقے پر سرکاری فوج کے کنٹرول کے بعد بشار فوج کی جانب سے مشرقی حلب کو (شمالی اور جنوبی) دو حصوں میں تقسیم کرنے کا ہدف آسان شمار کیا جا رہا ہے۔

بشار کی افواج نے اتوار کے روز بھی مشرقی حلب کے کئی علاقوں کو گولہ باری کا نشانہ بنایا۔ ان میں الشعار ، الصاخور ، کرم الطحان ، المرجہ ، باب النیرب ، القاطرجی ، مساکن ہنانو اور المشہد شامل ہیں۔

ادھر جنگی طیاروں نے حلب کے مغربی نواحی علاقوں پر بم باری کی جس کے نتیجے میں متعدد شہری جاں بحق اور زخمی ہوگئے۔

150 فضائی حملے اور 46 سے زیادہ ہلاکتیں

شام میں شہری دفاع کے ادارے نے بتایا ہے کہ ہفتے کی صبح سے مشرقی حلب اور اس کے نواحی علاقوں پر جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی جانب سے 150 سے زیادہ حملے کیے جا چکے ہیں۔ اس دوران توپوں کے 2500 سے زیادہ گولے بھی داغے گئے۔ بم باری اور گولہ باری کے نتیجے میں 46 سے زیادہ شہری جاں بحق ارو 325 کے قریب زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں کئی کی حالت تشویش ناک ہے۔

یاد رہے کہ شامی سرکاری فوج نے تقریبا 3 ماہ سے حلب شہر کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں غذائی اور طبی مواد کی شدید قلت کے باعث شہریوں کو الم ناک صورت حال کا سامنا ہے۔