.

شامی باغیوں نے حلب کے جنوب میں اسدی فوج کو پسپا کردیا

مشرقی حلب سے گذشتہ چار روز میں 50 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہوگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں باغی گروپوں نے شمالی شہر حلب کے جنوبی مشرقی علاقے شیخ سعید سے اسدی فوج اور اس کے اتحادیوں کو لڑائی کے بعد پسپا کردیا ہے جبکہ قبل ازیں شامی فوج کے ایک ذریعے نے دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری فوجیوں اور ان کی اتحادی فورسز نے اس علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔

حلب سے تعلق رکھنے والے ایک باغی گروپ فاستقیم کے سیاسی دفتر کے سربراہ زکریا ملحفجی نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مزاحمت کاروں نے شیخ سعید پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ البتہ اس علاقے میں متحارب فورسز میں جھڑپیں جاری ہیں۔

بدھ کی صبح مشرقی حلب میں شامی فوج کی توپ خانے سے گولہ باری سے دو بچوں سمیت 21 شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔ برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ مرنے والوں میں آٹھ شہری جانیں بچانے کے لیے اپنا گھربار چھوڑ کر بھاگے تھے اور انھوں نے باغیوں کے زیر قبضہ جبہ القبہ مہاجر کیمپ میں پناہ لے رکھی تھی۔

رصدگاہ کا کہنا ہے کہ شدید گولہ باری کے نتیجے میں دسیوں افراد زخمی ہوگئے ہیں اور بہت سے لوگ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ شہر میں خونریز لڑائی اور تباہ کن بمباری کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی قلت ہوچکی ہیں اور شہریوں مشکلات سے دوچار ہوچکے ہیں۔

چار روز میں 50 ہزار بے گھر

شامی فوج اور اس کے اتحادیوں کی مشرقی حلب پر چڑھائی کے بعد گذشتہ چار روز میں پچاس ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔رصدگاہ کا کہنا ہے کہ ان میں سے بیس ہزار سے زیادہ افراد شامی فوج کے زیر قبضہ حلب کے مغربی علاقوں کی جانب منتقل ہوگئے ہیں جبکہ تیس ہزار کے لگ بھگ کرد فورسز کے زیر قبضہ علاقوں یا باغی گروپوں کے زیر نگیں علاقوں کی جانب جارہے ہیں۔

شامی فوج نے روسی فضائیہ کی مدد سے گذشتہ دو ہفتے کی کارروائی کے دوران مشرقی حلب کے ایک تہائی حصے پر قبضہ کر لیا ہے۔باغیوں کے زیر قبضہ حلب کے مشرقی حصے پر شامی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں نے گذشتہ چار ماہ سے محاصرہ کررکھا ہے۔

صدر بشارالاسد کی حکومت کا کہنا ہے کہ مغربی حلب کی جانب آنے والے شہریوں اور ہتھیار ڈالنے والے باغیوں کے لیے راستے کھلے ہوئے ہیں۔اس نے حزب اختلاف کی فورسز پر مکینوں کو نقل مکانی سے روکنے کا الزام عاید کیا ہے۔

مگر شامی رصدگاہ نے یہ اطلاع دی ہے کہ شامی حکومت نے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں سے اپنا گھر بار چھوڑ کر آنے والے سیکڑوں شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

درایں اثناء حلب کی مقامی کونسل کے صدر بریطہ حاجی حسن نے عالمی برادری اور شامی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ محاصرہ زدہ مشرقی علاقوں سے شہریوں کے انخلاء کے لیے ایک محفوظ راستہ دے۔انھوں نے فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں مارک آیرو کے ساتھ نیوز کانفرنس میں مطالبہ کیا کہ ''شہریوں کو مشرقی حلب سے انخلاء کی اجازت دی جائے''۔

اس موقع پر فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ''اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کو حلب کے شہریوں کی جانیں بچانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہییں''۔ادھر شامی صدر کے اتحادی روس نے کہا ہے کہ وہ مشرقی حلب میں امدادی اشیاء مہیا کرنے والی امدادی ایجنسیوں کو محفوظ راستے دینے کو تیار ہے۔