.

موصل کا معرکہ اس سال ختم ہو جائے گا: العبادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی شہر موصل سے داعش کی بیدخلی پر مامور بین الاقوامی اتحاد کا خیال ہے کہ وہاں جاری لڑائی تادیر چلے گی تاہم اس کے برعکس عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے پیش گوئی کی ہے کہ اس سال کے اواخر تک شہر کا کنڑول داعش سے واپس لے لیا جائے گا۔ ان کے خیال میں داعش میں عراقی فورسز کا مقابلہ کرنے کے لئے درکار جرات اور دم خم باقی نہیں رہا۔

حیدر العبادی نے اس تاثر کی نفی کی ہے کہ داعش کے کنڑول سے واگزار کرائے جانے والے شہروں میں آبادیاتی تناسب متاثر ہوا ہے۔

ادھر موصل آپریشن میں شریک فوج کی بین الاقوامی اتحادی طیاروں کی مدد سے شمالی موصل کے دو دیہاتوں السادہ اور بعویزہ پر داعش جنگجوؤں کا حملہ روکنے میں کامیابی حاصل کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

نینوی گورنری کے سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ عراقی فورسز اور داعش جنگجوؤں کے درمیان متذکرہ دیہات کے قرب وجوار میں جھڑپ ہوئی جس میں انتہا پسندوں کو بھاری نقصان ہوا۔

ادھر صلاح الدین کے گورنر نے بتایا ہے کہ دریائے دجلہ کے دوسرے کنارے پر الشرقاط کے تاریخی شہر میں شامل متعدد دیہات کا کنڑول بھی عراقی فورسز نے دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔ نیز بھرپور فوجی کارروائی کے بعد دوسرے علاقوں کے محاصرے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں تاکہ الشرقاط کے بائیں ساحل کو بھی شدت پسندوں سے آزاد کرایا جا سکے۔

امریکی قیادت میں سرگرم اتحادی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ موصل کو داعش کے چنگل سے آزاد کرانے کا آپریشن گزشتہ چند ہفتوں کے دوران 'انتہائی مشکل' مرحلے میں داخل ہوا ہے۔ اگرعراقی فورسز کو شہر کی شمالی اور جنوبی سمتوں سے داخلے کا موقع مل گیا تو آپریشن کی رفتار میں تیزی آ سکتی ہے۔

عراقی فورسز کے مددگار بین الاقوامی فوجی اتحاد کے ترجمان اور ائر فورس کے کرنل جان ڈورین نے بغداد سے فون پر "رائیٹرز" نیوز ایجنسی کو بتایا "فی الوقت صورتحال انتہائی خراب ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ "داعش شہر میں دو برسوں سے موجود ہے، جس کی وجہ سے جنگجوؤں کو وہاں مضبوط دفاعی نظام قائم کرنے کا موقع ملا۔ اسلحہ گودام اور دیگر جنگی سامان کو استعمال میں لاتے وہ اتحادی اور عراقی فوج کی پیش قدمی کو مشکل بنا رہے ہیں۔

کرنل ڈورین نے بتایا کہ انتہا پسند جنگجو عام شہریوں کو انسانی ڈھال اور بارود سے بھری گاڑیاں اپنے دفاع میں استعمال کر رہے ہیں۔