.

ولایتِ فقیہ کو عالمی سطح پر پھیلائیں گے : ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای کے سینئر فوجی مشیر بریگیڈیئر جنرل یحیی رحیم صفوی کا کہنا ہے کہ " دنیا اس وقت ایران کے زیر انتظام ایک عالمی اسلامی حکومت کے قیام کی جانب گامزن ہے"۔

صفوی نے جو دس برس (1997 – 2007) تک پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر رہ چکے ہیں ، کہا کہ " امریکا سیاسی ور عسکری محاذ پر پیچھے ہٹنا شروع ہو گیا ہے"۔ انہوں نے باور کرایا کہ موجودہ صدر ایک عالمی اسلامی حکومت کا قیام دیکھے گی جس کا محور ایران ہوگا۔

ایرانی نیوز ایجنسی "فارس" کے مطابق صفوی کے خیال میں عالم اسلام میں یمن اور عراق کے نوجوان ایران کے نوجوانوں کو اپنے لیے قابل تقلید نمونہ سمجھتے ہیں۔

صفوی کے مطابق " امریکا کے سیاست دان اور اس کی فوجی قیادت ایران پر فوجی حملے کا فیصلہ کرنے کے حوالے سے قاصر ہیں"۔

خامنہ ای کے سینئر عسکری مشیر کے بیان سے انکشاف ہوتا ہے کہ ایرانی نظام "داعش" تنظیم کی جانب سے اعلان کردہ اسلامی خلافت کی ریاست کے مقابل علاقائی اور عالمی سطح پر شیعہ قیادت کے تحت ایک "اسلامی ریاست" قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

1979 میں اقتدار خمینی کے ہاتھ میں آنے کے بعد سے پیش کردہ "ولایتِ فقیہ" کا منصوبہ داعشی سوچ کے بنیادی نکتے سے مخلتف نہیں ہے اس لیے کہ دونوں فکریں "عالمی اسلامی حکومت" کے قیام کے حوالے سے ایک ہیں۔

تاہم فرق اتنا ہے کہ تہران میں ملائیت کا نظام اس بات کا پرچار کر رہا ہے کہ نئی اسلامی حکومت شیعہ فقہ کے مطابق ہو گی جب کہ داعش تنظیم دعوی کرتی ہے کہ وہ سنیوں کے اسلام کی نمائندہ ہے۔ البتہ تمام اسلامی ممالک میں بڑے سنی علماء دین کی جانب سے داعش کے اس دعوے کی شدیدی مذمت کرتے ہوئے اس کو مسترد کر دیا گیا۔

ایسا نظر آتا ہے کہ ایران اپنے حلیفوں ، ملیشیاؤں ، دھڑوں اور گروپوں کے ذریعے اسلامی اور عرب ممالک میں اپنے رسوخ کو وسیع کرنے پر انحصار کر رہا ہے۔ اس کا مقصد اس اسلامی حکومت کی راہ ہموار کرنا ہے جس کا وہ دعوے دار ہے۔ دوسری جانب دہشت گرد تنظیم داعش کی حکمرانی کا دائرہ عراق ، شام اور خطے میں دیگر ممالک میں تنظیم پر لگنے والی کاری ضربوں کے سبب سکڑتا جا رہا ہے۔ یہ امر مستقبل قریب میں اس تاریک تنظیم کے زوال سے خبردار کر رہا ہے۔