.

داعش پر روک لگانے کے لیے موصل کے پُلوں پر بم باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش تنظیم کے خلاف بین الاقوامی اتحاد نے بدھ کے روز بتایا کہ اس کے طیاروں نے عراق کے شمالی شہر موصل میں دریائے دجلہ پر واقع پانچ میں سے چار پُلوں کو بم باری کا نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کا مقصد شہر کو واپس لینے کی کوشش میں مصروف عراقی فورسز پر شدت پسندوں کے حملوں پر روک لگانا ہے۔

اتحادی افواج کے نائب کمانڈر برطانوی جنرل رابرٹ جونز کا کہنا ہے کہ ان ضربوں کا مقصد پُلوں کو تباہ کرنا نہں بلکہ "ناقابلِ استعمال" بنانا ہے۔

جونز نے واضح کیا کہ کارروائی کا ہدف یہ ہے کہ دریائے دجلہ کے مغرب میں روپوش دہشت گردوں کو گولہ بارود سے بھرے ٹرک دوسرے کنارے منتقل کرنے سے روکا جائے۔

اتحادی اور عراقی افواج بعض راستوں پر خندقیں بھی کھود رہی ہیں تاکہ دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑیوں کو پہنچنے سے روکا جا سکے۔ عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ ساتویں ہفتے میں داخل ہوجانے والا موصل آپریشن منصوبہ بندی کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔ قیادت کے مطابق دشمن کے لیے مشکلات کا آغاز ہوچکا ہے جب کہ آئندہ ہفتوں کے دوران گھمسان کی لڑائی جاری رہنے کی توقع ہے۔

عراقی فورسز دھیرے دھیرے دریائے دجلہ کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں جب کہ داعش تنظیم کی جانب سے شدید مزاحمت سامنے آ رہی ہے۔ عراقی فورسز نے موصل کے مشرقی حصے میں تقریبا نصف علاقوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

اس کے علاوہ عراقی فوج اور قبائلی جنگجوؤں نے موصل کے جنوب مشرق میں 5 دیہات کو داعش تنظیم سے آزاد کرا لیا ہے۔