.

عراق:داعش مخالف واحد سُنی خاتون جنگجو میعاد مضعاد سے ملیے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمالی شہر موصل کو داعش سے بازیاب کرانے کے لیے عراقی فوج کے ساتھ مختلف جنگجو گروپ بھی لڑائی میں پیش پیش ہیں۔ ملک کے سنی عرب جنگجوؤں پر مشتمل یونٹ ''دجلہ کے شیر'' ان میں سے ایک ہے اور اس میں میعاد مضعاد واحد خاتون جنگجو ہیں۔عسکری گروپ ''دجلہ کے شیر'' بھی مختلف سُنی اور شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی کا حصہ ہے۔

یہ سنی گروپ شمالی صوبے نینویٰ کے دارالحکومت موصل کے نواح میں واقع ایک گاؤں شیاء اللہ آل امام میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف لڑرہا ہے۔ داعش کے جنگجوؤں نے میعاد کے سسر اور دیور کا سرقلم کردیا تھا۔

انھوں نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ''آخری مرتبہ جب داعش کے جنگجو میرے گھر میں آئے تھے اور انھوں نے مجھے دھمکی دی تھی تو میں نے ان کی جانب پتھر پھینکے تھے اور انھیں کُتا قرار دیا تھا''۔

اس خاتون جنگجو نے انٹرویو کے دوران اے کے 47 آتشیں رائفل (کلاشنکوف) پکڑ رکھی تھی اور اپنی گفتگو میں داعش کو شکست دینے کے عزم کا اظہار کیا۔وہ جب اس سال کے اوائل میں اپنے خاوند کے ہمراہ اپنا گھر بار چھوڑ کر کرد علاقے کی جانب گئی تھیں تو کرد ملیشیا البیش المرکہ نے انھیں داعش کی جنگجو ہونے کے شُبے میں پکڑ لیا تھا لیکن اب وہ داعش کے خلاف میدان جنگ میں ہیں۔