.

حلب ایک بڑے قبرستان میں تبدیل ہو سکتا ہے : اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بدھ کی شام فرانس کی درخواست پر ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا جس کے دوران شام میں مشرقی حلب کی ابتر صورت حال زیر بحث آئی۔ اس موقع پر فرانس نے بحران سے متعلقہ ممالک سے مطالبہ کیا کہ دس دسمبر کو پیرس میں شام کے حوالے سے ایک بین الاقوامی اجلاس منعقد کیا جائے۔

اجلاس کے دوران سلامتی کونسل کے 15 ارکان نے مشرقی حلب کی صورت حال سے متعلق شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن ڈی میستورا اور انسانی امور کے لیےاقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے نائب اسٹیفن اوبرائن کی بریفنگوں کو سنا۔ ڈی میستورا نے بتایا کہ شامی اپوزیشن سے تعلق ہونے کے دعوے کے تحت حلب میں شہریوں کو گرفتار کیے جانے کی رپورٹیں ہیں۔ انہوں نے باور کرایا کہ حلب کے حوالے سے ان کا مجوزہ منصوبہ اب بھی موجود ہے۔ ڈی میستورا نے زور دے کر کہا کہ عالمی برادری کو فریقین سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ حلب میں بین الاقوامی قانون کا احترام کریں۔ انہوں نے حلب سے نقل مکانی کرنے والے شامیوں کی امداد کے لیے ایک ہنگامی منصوبے کا اعلان کیا۔ واضح رہے کہ حلب پر جاری شدید بم باری کے نتیجے میں اب تک 16 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب اسٹیفن اوبرائن کا کہنا ہے کہ شام میں تنازع کے فریق مکمل طور پر جنیوا کنونشن کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق پرتشدد کارروائیاں محض مشرقی حلب تک محدود نہیں بلکہ شہر کے مغربی حصے میں بھی شہری ہلاک ہو رہے ہیں۔ اوبرائن نے خبردار کیا کہ حلب شہر کا مشرقی حصہ ایک بہت بڑے قبرستان میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شامی حکومت کی افواج مسلح تنظیموں سے تعلق کے شبہے میں شہریوں کو اندھا دھند گرفتار کر رہی ہے جب کہ حلب کے تمام ہسپتالوں کو متعدد بار بم باری اور گولہ باری کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سیمنتھا پاور نے شامی حکومت اور روس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ حلب کے واقعات کو مشکوک بنانے کے مقصد سے حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لڑائی کے علاقوں سے فرار ہونے والے لاکھوں شہری اور تمام ریکارڈنگ اور تصاویر شام میں شہریوں کے خلاف جاری قتل عام کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

اس کے مقابل سلامتی کونسل میں روس کے مستقل مندوب وٹالی چورکن نے کہا کہ ڈی میستورا شام میں اپوزیشن اور دہشت گردوں کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ ان کے مطابق فرانس اور برطانیہ نے محض اس وقت سلامتی کونسل کا سہارا لیا ہے جب شامی اپوزیشن ڈھیر ہونے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ روسی مندوب نے واشنگٹن پر الزام لگایا کہ وہ شامی حکومت کی تبدیلی کے لیے دہشت گردوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور اگر امریکا اپوزیشن کے گروپوں میں شدت پسند اور اعتدال پسندوں کو علاحدہ کر لیتا تو حلب میں حالیہ خونی منظرنامہ سامنے نہ آتا۔

قتل عام پر خاموش نہیں رہا جا سکتا

دوسری جانب اقوام متحدہ میں فرانس کے سفیر فرنسوا ڈیلاتر نے کہا کہ " پیرس اور اس کے شراکت دار اس صورت حال پر خاموش نہیں رہ سکتے جو ممکنہ طور پر دوسری جنگ عظیم کے بعد شہریوں کے خلاف سب سے بڑے قتل عام میں سے ہے"۔

ادھر ڈیلاتر کے برطانوی ہم منصب میتھیو ریکفورٹ کے مطابق لندن شامی حکومت اور روس پر زور دے رہا ہے کہ وہ بم باری روک کر انسانی امداد کے داخلے کی اجازت دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کے پاس مشرقی حلب میں شہریوں کی امداد اور زخمیوں کو باہر نکالنے کے حوالے سے خصوصی منصوبہ ہے جس پر شامی اپوزیشن آمادہ ہو چکی ہے۔

شام کے حوالے سے بین الاقوامی اجلاس

فرانس کے وزیر خارجہ جان مارک ایرولٹ نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ شام سے متعلق ایک اہم بین الاقوامی اجلاس دس دسمبر کو پیرس میں منعقد کیا جا رہا ہے جس میں امریکا ، یورپی اور عرب ممالک شریک ہوں گے جو شام میں سیاسی حل کو سپورٹ کرتے ہیں اور جامع طور پر جنگ کی منطق کو مسترد کرتے ہیں۔

ایرولٹ کا کہنا تھا کہ " اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری بیدار ہو جائے کیوں کہ المیہ ہمارے سامنے جاری ہے۔ ہم بشار الاسد کے شراکت دار نہیں ہیں۔

سلامتی کونسل کا فوری اجلاس

اس سے قبل فرانسیسی وزیر خارجہ نے منگل کے روز مطالبہ کیا تھا کہ سلامتی کونسل کا ایک فوری اجلاس منعقد کیا جائے تاکہ حلب شہر میں انسانی المیے اور مقامی آبادی کو امداد پیش کرنے کے راستوں پر بحث ہو سکے۔

سلامتی کونسل میں شام سے متعلق سہ فریقی قرارداد کا منصوبہ

نیویارک میں "العربیہ" کے نمائندے کے مطابق مصر ، اسپین اور نیوزی لینڈ کی جانب سے حلب شہر میں 10 روز فائر بندی سے متعلق مجوزہ قرارداد کا مسودہ سلامتی کونسل میں نیلے رنگ میں پیش کیا جائے گا۔ سفارتی ذرائع نے "العربیہ" کو بتایا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ قرارداد کو روس کی سپورٹ حاصل ہو گی یا نہیں۔

توقع ہے کہ مذکورہ قرارداد پر 24 سے 48 گھنٹوں میں ووٹنگ ہو گی۔