.

سال کے اختتام پر حلب حکومت کے ہاتھ میں جا سکتا ہے: ڈی میستورا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن ڈی میستورا کا کہنا ہے کہ رواں برس کے اختتام پر مشرقی حلب شامی حکومت کے ہاتھوں میں جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ کسی بھی "خوف ناک معرکے" سے اجتناب کیا جائے گا۔

دوسری جانب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے انکشاف کیا ہے کہ مشرقی حلب سے اپوزیشن کے تمام گروپوں کے انخلاء کو یقینی بنانے کے لیے روس اور امریکا کے درمیان بات چیت ہو رہی ہے۔ شامی اپوزیشن کے مطابق ایسا کرنا ترکی کے زیر نگرانی روس کے ساتھ اس کے مذاکرات میں طے پانے والے نتائج سے پیچھے ہٹ جانا ہو گا۔

انقرہ میں شامی اپوزیشن اور روس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں چار نکات پر توجہ مرکوز رکھی گئی تاہم لاؤروف کے بیان نے سب چیزوں پر پانی پھیر دیا اور انقرہ بات چیت ڈیڈ لاک کا شکار ہو گئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقی حلب کے 60% علاقوں کا شامی حکومت کے ہاتھ میں چلا جانا اور تقریبا 2 لاکھ محصور افراد کا انسانی المیے سے دوچار ہوجانا.. یہ عوامل شامی اپوزیشن کے جنگجوؤں کو حلب سے نکلنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔

تاہم یورپی یونین خارجہ پالیسی کی ذمے دار فیڈریکا موگرینی کے مطابق حلب سے اپوزیشن کے نکل جانے اور شہر کے بشار حکومت کے ہاتھوں میں چلے جانے کے نتیجے میں شام کی جنگ ختم نہیں ہوجائے گی۔