.

شام: ادلب میں گاؤں پر فضائی حملے میں تین بچوں سمیت 21 ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی صوبے ادلب میں واقع ایک گاؤں کفرنبل پر اتوار کے روز فضائی حملے میں تین بچوں سمیت اکیس شہری ہلاک اور دسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ بظاہر یہ حملہ روس کے ایک لڑاکا طیارے نے کیا ہے۔اس فضائی حملے کے عینی شاہد اس گاؤں کے مکین حسام نے بتایا ہے کہ مکانوں اور ایک پرہجوم مقامی مارکیٹ کو فضائی بمباری میں نشانہ بنایا جا کیا ہے۔

واضح رہے کہ صوبہ ادلب کے زیادہ تر علاقوں پر مختلف اسلامی جنگجو گروپوں پر مشتمل جیش الفتح کا کنٹرول ہے۔ماضی میں القاعدہ سے وابستہ فتح الشام محاذ (سابقہ النصرۃ محاذ) بھی اسی اتحاد میں شامل ہے۔فتح الشام کو اقوام متحدہ اور امریکا نے دہشت گرد تنظیم قرار دے کر بلیک لسٹ کر رکھا ہے۔

روس ستمبر 2015ء سے شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں باغی گروپوں کے ٹھکانوں پر بمباری کررہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ ''دہشت گردوں'' کو نشانہ بنا رہا ہے۔فتح الشام کے جنگجو اس کا جائز ہدف ہیں۔تاہم اس کے حملوں میں زیادہ تر عام شہری نشانہ بن رہے ہیں۔

روس پر شامی صدر بشارالاسد کے مخالف باغی گروپوں کے ساتھ ساتھ شہریوں پر تباہ کن ہتھیار استعمال کرنے کے الزامات عاید کیے جارہے ہیں اور اس پر جنگی جرائم کے ارتکاب کے بھی الزامات عاید کیے جارہے ہیں۔ اس نے شام میں اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید میزائلوں اور دوسرے ہتھیاروں کے بھی تجربات کیے ہیں۔ان میزائلوں کو جنگی بحری جہازوں ، آبدوزوں اور لڑاکا طیاروں سے فائر کیا گیا تھا۔

قبل ازیں اتوار ہی کو شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا نے روم میں ایک بیان میں کہا ہے کہ اس ماہ کے اختتام تک شامی حکومت کی فورسز کا باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی حلب پر دوبارہ کنٹرول ہو سکتا ہے۔